تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱
سے چھین لیا۔
میں نے کہا کہ آپ صحابہ والا ذہن پیدا کیجئے تو آپ محسوس کریں گے کہ ہندوستان نے آپ سے تین سوستر کو چھین کر آپ کو تین کروڑستر دے دیا ہے۔ ایران کے بادشاہ یزدگرد نے صحابی کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھ دیا۔ صحابی اس پر غصہ نہیں ہوئے۔ بلکہ یہ کہا کہ شاہ ایران نے تو اپنا ملک ہی ہمارے حوالے کر دیا۔ انھوں نے ایک تحقیری معاملہ سے اپنے لئے حوصلہ کی خوراک حاصل کر لی۔ ۷۳ نے آپ کو محدود رقبہ میں سمٹ دیا تھا۔ اب موجودہ حالت آپ کو وسیع تر رقبہ میں کھینچ لائی ہے۔ اس نے آپ کو چھوٹی ریاست کے دائرہ سے نکال کر ایک بڑے ملک کے دائرہ میں پہنچا دیا ہے۔ اس نے آپ کے مواقع کار کو داخلی حدوں سے نکال کر خارجی وسعتوں تک پھیلا دیا ہے۔ پھر اس میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ آپ صحابی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس بظاہر منفی واقعہ سے مثبت سبق لیجئے اور اس کو اپنی وسیع تر کامیابی کے لئے استعمال کیجئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ الرسالہ میں ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ صبر کی حد کیا ہے۔
میں نے کہا کہ صبر کی حد یہ ہے کہ صبر کرنا نا ممکن ہو جائے ۔ صبر کے تمام تقاضوں کے ساتھ اس کا تجربہ کیجئے اور جب تجربہ نا کام ہو جائے تو اس کے بعد حسب حالات صبر کے بجائے دوسرے طریقہ کو آزمایا جائے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے ابھی تک صبر کا تجربہ ہی نہیں کیا ، اس لئے یہاں ابھی تک صبر کی حد بھی نہیں آئی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے امام حسین پر تنقید کی ہے۔ اس کے لیے آپ کے پاس کیا جواز ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے امام حسین پر تنقید نہیں کی ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ امام حسین کا اقدام ایک اجتہادی خطا تھا، اور یہی تمام علماء امت کا موقف ہے۔ آپ "راہ عمل" میں اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اگر وہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہوتا تو کربلا کے معاملہ کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ امام حسین اس خبر کی بنیاد پر مکہ سے روانہ ہوئے تھے کہ کوفہ کے لوگوں نے آپ کی خلافت کی بیعت کر لی ہے۔ مگر جب کوفہ کے پاس پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر صحیح نہ تھی اور بیعت کرنے والے تمام لوگ اپنی بیعت سے پھر چکے ہیں تو آپ نے دوبارہ مکہ واپسی کا فیصلہ کیا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ زمانہ اگر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues