تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲
”ٹیلی فون“ کا زمانہ ہوتا تو یہ اطلاع آپ کو کبھی مل جاتی اور آپ اپنا سفر ملتوی کر دیتے۔ کوفہ کا اموی گورنر جس نے امام حسین کو مکہ واپسی کی اجازت نہیں دی، اگر یہ ٹیلی فون کا دور ہوتا اور وہ دمشق سے فوری رابطہ قائم کر کے یزید کی ہدایت معلوم کرتا تو یقینی طور پر یزید اس سے کہتا کہ ان کو مکہ واپس جانے دو، ان سے تعرض نہ کرو۔
۱۶ جنوری کو محبوب نگر کے کریسنٹ پبلک اسکول میں اجتماع ہوا۔ اس میں درس قرآن کا پروگرام تھا۔ میں نے کچھ آیتوں کی روشنی میں دعوت کی اہمیت واضح کی۔ پھر بتایا کہ موجودہ حالات میں ہم دعوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ علم کی صرف دو قسمیں ہیں۔ ایک الہامی علم (revealed knowledge) اور دوسرے ثابت شدہ علم (established knowledge) الہامی علم کی بنیاد پیغمبرانہ وحی ہے۔ اور ثابت شدہ علم کی بنیاد انسانی ریسرچ ہے۔ آدمی کو انھیں دو میں سے کسی ایک کی بنیاد پر بولنا چاہئے۔ حبیب بھائی نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دو کے علاوہ کسی اور بنیاد پر جو مسئلہ اٹھایا جائے وہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فتنہ ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں آپ نے بالکل درست فرمایا۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آجکل کے لوگ اکابر کے اوپر تنقید کو سن کر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں خدا پر تنقید کی جائے تو وہ غصہ نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ خدا کے دین پر نہیں ہیں بلکہ اکابر کے دین پر ہیں۔ اکابر کا تقدس مشتبہ ہو تو وہ ڈرتے ہیں کہ وہ اپنی دینی زمین سے محروم ہورہے ہیں۔ چونکہ وہ خدا کے دین پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اس لئے خدا پر تنقید کے بعد بھی انھیں یہ اطمینان رہتا ہے کہ وہ بے زمین نہیں ہوئے ہیں۔
جناب عزیز احمد خاں صاحب حیدر آباد کی معروف شخصیت ہیں۔ وہ ڈاکٹر بھی ہیں اور ایڈوکیٹ بھی۔ انھوں نے عورتوں کی ان بیماریوں پر ریسرچ کی ہے جن کو عام طور پر جادو اور آسیب کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان بیماریوں میں بظاہر کچھ پر اسراریت اور عجوبہ پن ہوتا ہے، اس لئے لوگ ان کو جادو اور آسیب کا نام دیدیتے ہیں۔ مگر یہ قطعاً درست نہیں۔ اس قسم کی بیماریاں وہی باتوں یا رحمی خرابیوں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues