Al-Risala · April 1993 · page 43

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۳

کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں اور وہ پوری طرح قابل علاج ہیں۔ میں نے خود کئی پیچیدہ کیس میں ہومیوپیتھیک طریقہ علاج کو آزمایا ہے اور الحمد للہ کامیابی حاصل کی ہے۔ لوگوں کو ان بیماریوں کا دماغی اور جسمانی علاج کرانا چاہئے ۔ مذکورہ موضوع پر جناب عزیز احمد خاں صاحب کا ایک مضمون ماہنامہ مہینوں صدی، اگست ۱۹۹۲ میں چھپا ہے۔

راقم الحروف کا خیال بھی ذاتی طور پر یہی ہے۔ اس قسم کی تمام باتیں خود اپنے دماغی اختلال کا نتیجہ ہوتی ہیں نہ کہ کسی خارجی عمل کا نتیجہ ۔ جن یا شیطان کا وجود بلا شبہ بر حق ہے۔ مگر شیطان کو انسان کے اوپر کوئی قدرت حاصل نہیں۔ شیطان صرف بہکانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس لئے جب بھی کوئی معاملہ بہکانے سے زیادہ ہو تو اس کو شیطان یا جن کے بجائے کسی اور چیز کا نتیجہ سمجھنا چاہئے ۔ حیدر آباد کے ایک بزرگ نے اپنی تازہ کتاب دی ۔ اس کا نام ” افکار جدید اور مذہب ہے ۔ اس کے مقدمہ میں بتایا گیا ہے کہ سر سید سے متاثر ان کے ایک ساتھی مولوی چراغ علی (۱۹۵۔ ۱۸۴۶) نے ایک کتاب لکھنا شروع کیا تھا جس کا نام العلوم الجدیدۃ والاسلام تھا۔ یہ کتاب تہذیب الاخلاق میں چھپنا شروع ہوئی ۔ ابھی صرف تمہیدی حصہ لکھا تھا کہ مولوی چراغ علی کی وفات ہو گئی۔ سرسید نے ان کی وفات پر تہذیب الاخلاق میں لکھا:

افسوس کہ وہ مضمون لاحل سوال کا جواب جو انھوں نے تہذیب الاخلاق میں لکھنا چاہا تھا ناتمام رہ گیا۔ اور اب امید نہیں کہ کوئی شخص اس لاحل سوال کو حل کرے گا۔ “ سرسید کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ مولوی چراغ علی نے اس معاملہ کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے۔ اب دوسرے اہل ملت آگے بڑھیں اور اس کام کی تکمیل کریں۔ مذکورہ الفاظ اچھا مرثیہ ہو سکتے ہیں مگر وہ اچھی رہنمائی نہیں۔

مولانا محمد رضوان القاسمی حیدر آبادی ایک معروف دینی شخصیت ہیں۔ ملاقات کے دوران ان سے مفید گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اپنے سہ ماہی جریدہ صفا کا ایک خصوصی شمارہ ”فقہ اسلامی: اصول ، خدمات اور تقاضے “ کا ایک نسخہ دیا۔ ۵۶ صفحات کی یہ فقہی دستاویز دار العلوم سبیل السلام کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔

اس کے مختلف حصے دیکھے۔ ایک مقالہ ” مصالح مرسلہ کے موضوع پر تھا۔ مقالہ نگار نے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page