تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴
اس میں لکھا تھا، مصالح مرسلہ کے بارہ میں اہل سنت کے چاروں دبستان فقہ کا نقطہ نظر کیا ہے اس کی ابتدا از مانی، ترتیب کے اعتبار سے فقہ حنفی سے ہونی چاہئے تھی۔ لیکن یہ گنہگار اس کا آغاز فقہ مالکی سے کر رہا ہے۔ کیوں کہ مالکیہ ہی نے استصلاح یا مصالح مرسلہ کی اصطلاح وضع کی ہے۔ انھوں نے ہی اس کے اصول و قواعد منضبط کئے ہیں۔ اس موضوع پر غور و بحث کا دروازہ کھولا ہے۔ اور غالباً دوسرے مکاتب فقہ کی نسبت اس سے زیادہ کام بھی لیا۔ ۔۔ اس لئے اس امر کا اعتراف کیا جانا چاہئے کہ مصالح مرسلہ جیسی اصل کے انضباط کے لئے مالکیہ تمام فقہاء کی تحسین و امتنان کے حقدار ہیں جس کے ذریعہ نئے مسائل کے حل میں مدد لی جاتی رہی ہے۔ صفیہ ۲، ۲۵-۲۲۴ مضمون نگار کا یہ اعتراف قابل قدر ہے۔ تاہم اس کو پڑھتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ اس کا کیا درجہ ہے لوگ ماضی کے ایک عالم کی امتیازی خدمت کا اعتراف تو بہ آسانی کر لیتے ہیں۔ مگر وہ ہم عصر عالم کی امتیازی خدمت کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اول الذکر اعتراف میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی اور ثانی الذکر اعتراف میں معمولی چیز بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا عالم ایک مسلّمہ شخصیت کی حیثیت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ جب کہ معاصر عالم کے حق میں ابھی اس قسم کا تاریخی وزن موجود نہیں ہوتا۔ ماضی کے عالم کو ماننے کے لئے تاریخ کا دباؤ ہی کافی ہے، جب کہ معاصر عالم کو ماننے کے لئے ذاتی معرفت کا سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اور ذاتی معرفت بلاشبہ اس دنیا کی سب سے زیادہ کم یاب متاع ہے۔
حبیب بھائی نے بتایا کہ ایک بار وہ حیدر آباد کے زو میں گئے۔ وہاں انھوں نے ایک شیر کو دیکھا کہ وہ اپنے پنجرہ کے اندر اگی ہوئی گھاس کھا رہا تھا۔ انھوں نے زو کے آدمی سے پوچھا کہ شیر تو ایک گوشت خور جانور ہے۔ وہ گھاس کیوں کھارہا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے پیٹ کا علاج کر رہا ہے۔ کبھی کبھی شیر کا ہاضمہ بگڑ جاتا ہے یا اس کو قبض ہو جاتا ہے ، اس وقت وہ گھاس لے کر اس کا علاج کرتا ہے۔ مصطفی صدیقی صاحب نے بتایا کہ میں نے بھی بلی کو کبھی کبھی گھاس کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ڈاکٹر عبد الرشید صاحب نے کہا کہ طبی اصول سے یہ بالکل قابل فہم ہے۔ کیوں کہ نباتات میں دوا فائدہ (medicinal value) موجود ہے۔ اکثر دوائیں نباتات ہی کے ذریعہ بنائی جاتی ہیں۔ قدرت نے ان جانوروں کو گوشت خور بنایا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ان کی فطرت میں یہ شعور رکھ دیا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues