ہندوستان اور مسلمان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱
سلام کی ان تعلیمات کو اور اس تاریخ کو لا سکیں جس میں ملک کی رہنمائی ہے۔ اور جس کو اختیار کے ملک میں صالح معاشرہ کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ حتیٰ کہ خود ملک ایک صدی سے جس کا انتظار رہا ہے۔ مسلمان صبر نہ کر سکے اس لیے وہ اس قسم کا قیادت کا رول ادا کرنے میں ناکام رہے۔ کرنے کا کام اسلام فطرتِ انسانی کا مذہب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو مختلف قوموں میں پھیلنے کے لیے کسی پھیلانے والے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنے زور پر پھیلتا ہے، جس طرح پانی خود اپنے زور پر پیاسے تک پہنچتا ہے، ٹھیک اسی طرح اسلام خود اپنے زور پر لوگوں کے دلوں میں د اخل ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں۔ لمبی تاریخ نے اس کو ایک ثابت شدہ صداقت بنا دیا ہے۔ اسلام آج ایک معلوم اور مسلم مذہب ہے نہ کہ کوئی غیر معروف یا نزاعی مذہب۔ یہ ایسی خصوصیت ہے جس نے اسلام کو یہ طاقت دے دی ہے کہ کوئی اس کو پھیلانے والا نہ ہو تب بھی وہ پھیلتا ہے، کوئی اس کا اعلان کرنے والا نہ ہو تب بھی وہ لوگوں کے کانوں میں گونجتا ہے۔ اسلام کی اس خصوصیت کا تقاضا تھا کہ اسلام اس ملک کے لوگوں کے قلب و دماغ میں اتر چکا ہوتا۔ ماضی میں بتدریج ایسا ہو بھی رہا تھا۔ مگر حالیہ تاریخ میں دو واقعات نے اس فطری عمل پر روک لگا دیا۔ ایک ہے، دو قومی نظریہ، اور دوسرا ہے مسلمانوں کی تانجی سیاست۔
تقسیم سے پہلے کچھ مسلم لیڈروں نے دو قومی نظریہ ایجاد کیا۔ اس نظریہ کے غیر اسلامی ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کو علماء نے پیش نہیں کیا۔ تاہم بعض اسباب کے نتیجہ میں وہ عوام میں پھیل گیا۔ حتیٰ کہ اس نے ایک پرشور تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ یہ دو قومی نظریہ اسلام کی عمومی اشاعت کے لیے قاتل تھا۔ کیوں کہ جب یہ ماحول بنا دیا جائے کہ اہل اسلام مستقل طور پر الگ قوم ہیں اور غیر اہل اسلام مستقل طور پر الگ قوم، تو غیر مسلم قوموں میں اسلام کو اپنانے کا احساس ہی سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اسلام لوگوں کے نزدیک عقیدہ غیر بن جاتا ہے نہ کہ عقیدہ خویش۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues