تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵
کہ وہ ہاضمہ کی خرابی کے وقت نباتات لے کر اپنا علاج کر لیں۔
شیر اور بلی وغیرہ میں یہ عادت براہ راست خدائی تعلیم کی بنا پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گوشت خوری اگر فطری ہے تو سبزی خوری بھی عین فطری ہے۔ ہائی پروفائل کا انداز اگر مطلوب ہے تو لو پر وفائل کا انداز بھی عین اسی طرح مطلوب ہے۔ مزید یہ کہ جس وقت لو پروفائل مطلوب ہو اسوقت ہائی پروفائل اختیار کرنا فطرت کی منشا کے خلاف ہے اور یقینی طور پر الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ حیدر آباد سے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۸۴۰ کے ذریعہ ۲۰ جنوری ۱۹۹۲ کی شام کو روانگی ہوئی ۔ جہاز میں انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سوگات (جنوری ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون ہندوستان میں مچھلی کے شکار (Indian fishing) اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا دنیا کا ساتواں سب سے بڑا مچھلی کا ملک (fishing nation) سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت انڈیا میں ۹۷ کی تعداد میں گہرے سمندر میں مچھلی کا شکار کرنے والے جہاز ہیں۔ ۲۳ ہزار میکانائزڈ بوٹ ہیں۔ اور ایک لاکھ ۲۵ ہزار دیسی ساخت کی کشتیاں ہیں۔ یہ سب مل کر بھی سمندر سے ایک ملین سے کم (million 0.21) ٹن مچھلی نکالتے ہیں۔ ابھی اس میدان میں بہت زیادہ حاصل کرنا باقی ہے۔ ہندستانی سمندروں کے نیچے سمندری خوراک (sea-food) کی قیمتی دولت بہت بڑی مقدار میں موجود ہے۔ اس کو استعمال کر کے انڈیا کو مچھلی کا بہت بڑا بر آمدی ملک بنایا جا سکتا ہے۔ ہم کو چاہئے کہ ہم ملک کے وسیع غیر استعمال شدہ ذخائر کو استعمال کریں:
We must tap the country's vast unexploited resources (p.92). اس کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ یہ صرف ہندستانی سمندر کی بات نہیں، ہم میں سے ہر ایک کی بات ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے وسیع امکانات کے اعتبار سے غیر استعمال شدہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو ابھی اپنے امکانات کو مزید استعمال کرنا ہے۔
جہاز کے اندر مطالعہ کے لئے کئی اخبارات تھے۔ نیوز ٹائم (۲۰ جنوری ۱۹۹۲) میں کرکٹ کے مشہور کھلاڑی مسٹر اظہر الدین کا ایک مضمون تھا۔ انھوں نے بلبورن (آسٹریلیا) کے حالیہ کرکٹ میچ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں ہندستانی ٹیم نے بہت بری کارکردگی (worst performance) دکھائی۔ مگر سچا کھلاڑی وہ ہے جو حال سے زیادہ مستقبل پر نظر رکھے ۔ چنانچہ انھوں نے کمزوری کا اعتراف
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues