تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۶
کرتے ہوئے آئندہ کے لئے امید کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ ہر برے لمحہ کے ساتھ اچھا لمحہ بھی ضرور آتا ہے:
I believe that for every bad moment, there is a good one on the way. یہی زندگی کا صحیح ترین اصول ہے۔ جو لوگ اس اصول کو اپنائیں وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ وہ ہر شام کے بعد اپنی لئے ایک نئی صبح کو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سوآگت (جنوری ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون سنگاپور کے بارے میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سنگاپور کا رقبہ صرف ۲۳۸ مربع میل ہے۔ اور اس کی آبادی تقریباً تین ملین ہے۔ مگر ترقی کے اعتبار سے وہ بہت سے بڑے بڑے ملکوں سے بھی آگے ہے۔ ۱۹۷۰ سے ۱۹۹۰ کے درمیان ۲۰ سال کے عرصہ میں سنگاپور نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔
مجھے وہ رپورٹ یاد آئی جو میں نے پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۲۵ دسمبر ۱۹۹۱) میں پڑھی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم مسٹر نواز شریف نے ایک سفر کے دوران سنگاپور کا معلوماتی دورہ کیا۔ دوران پرواز انھوں نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بطور خاص سنگاپور آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ تیسری دنیا کے اس ملک کی ترقی کی حکمت عملی کو جان سکیں۔ انھوں نے کہا کہ سنگاپور کی فی کس سالانہ آمدنی ۱۳ ہزار ڈالر ہے۔ جب کہ پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی ۳۵۰ ڈالر ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے سنگاپور کے حوالہ سے پاکستان کی پس ماندگی پر رونا آتا ہے سنگاپور میں نہ قدرتی وسائل ہیں اور نہ زرعی پیداوار۔ لیکن اس ملک نے محض ٹرانزٹ پورٹ کی حیثیت سے اتنی ترقی کی کہ اب وہ دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ اور ہم دن بدن پیچھے جار ہے ہیں جب کہ پاکستان بہترین قدرتی وسائل اور ہنرمند افراد کی قوت سے مالامال ہے۔ سنگاپور کو ایک چھوٹی سی دنیا ملی۔ اس پر قانع ہوکر اس نے ممکن دائرہ میں اپنی ترقی کی جدوجہد شروع کر دی۔ یہی اس دنیا میں ترقی اور کامیابی کا واحد راز ہے۔ جو لوگ ملے ہوئے پر اپنے کوششوں کو مرتکوز کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ نہ ملے ہوئے کو حاصل کرنے کی طرف دوڑتے ہیں وہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues