Al-Risala · April 1993 · page 49

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۹

مسٹر موہتا اور شریف بمبئی کی دعوت پر ۱۵ فروری ۱۹۹۲ کو بمبئی کا سفر ہوا۔ ۲۰ فروری کو واپس ہوئی۔ اس دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے کئی اجتماعات میں خطاب کا موقع ملا۔ بمبئی سے مدراس کا سفر ہوا۔ وہاں کانچی کے شنکر اچاریہ سے ملاقات کی۔ اس میں اجودھیا کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کی خواہش خود شنکر اچاریہ نے کی تھی۔ ڈاکٹر این ایم شیخ (کلیان) لکھتے ہیں کہ اس پر فتن دور میں الرسالة کا وجود ہندوستانی مسلمانوں کے لئے نعمت اور امید کی کرن ہے۔ فی الحال میرے نام الرسالة کی ۱۰ کاپیاں بطور ایجنسی ہر ماہ روانہ کریں " یہی درست طریقہ ہے۔ جو لوگ بھی الرسالہ کے پیغام سے اتفاق کرتے ہیں ان سب کو یہ کرنا ہے کہ وہ الرسالہ کی ایجنسی لیں اور اپنے حلقہ میں اس کو پھیلا کر شعوری بیداری کا کام کریں۔

یو این آئی اردو نیوز سروس نے روزانہ تمام اخباروں کو الرسالہ کے اقوال بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مثلاً "آج کا قول" کے عنوان کے تحت انھوں نے ایک قول یہ روانہ کیا: جو مسئلہ اپنی غلطی مان کر ختم ہو سکتا ہے، اس کے لئے دوسروں کی غلطی منوانے کی کوشش کرنا وقت کا ایسا ضیاع ہے جس کا ارتکاب کوئی نادان ہی کر سکتا ہے۔ برندابن (متھرا) کے گیتا آشرم کی طرف سے ۱۳ - ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کو ایک سمواد پر یاس منعقد کیا گیا۔ اس میں ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً ۵۰ ہندو دانشور شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ انھوں نے شرکت کی اور وہاں اسلام کی روشنی میں نئے ہندوستان کی تعمیر پر چند تقریریں کیں۔ ہندی هفت روزه پانچ جنیہ کے نمائندے نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر موجودہ حالات سے تھا۔ یہ انٹرویو پانچ جنیہ کے شمارہ جنوری ۱۹۹۳ میں شائع ہوا ہے۔

ڈیلی ٹیلی گراف کے نمائندہ مسز سونار اولہ نے ۲۸ جنوری ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس کا موضوع یونیفارم سول کوڈ تھا۔ بتایا گیا کہ یونیفارم سول کوڈ نہ ممکن ہے اور نہ مفید۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page