ہندوستان اور مسلمان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲
۱۹۴۷ میں دو قومی سیاست کو ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر مسلمانوں کے کچھ نادان لیڈروں کی سطحی سیاست کے نتیجہ میں وہ باقی رہی۔ مزید یہ کہ ، ۱۹۴۷ کے بعد کے حالات نے مسلمانوں کے اندر شدت سے منفی ذہن پیدا کیا۔ وہ اہل وطن کے مقابلہ میں احتجاجی سیاست کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ اس کے نتیجہ میں دوبارہ ماحول میں تلخی کے اسباب پیدا ہو گئے۔ اسلام سنجیدہ غور و فکر کا موضوع نہ بن سکا۔
اب مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ دو قومی نظریہ سے اپنے ذہن کو آزاد کر لیں اور ہر اس سرگرمی سے مکمل طور پر اجتناب کریں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے در میان تناؤ پیدا کرنے والی ہو، وہ یک طرفہ اہتمام کے ذریعہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا پیدا کریں۔
۱۔ اس جائزہ کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہندو مسلم ملاپ کی صورتیں پیدا کریں۔ وہ ہر اس سرگرمی سے آخری حد تک پرہیز کریں جو ہند و مسلم تعلقات کو بگاڑنے والی ہو۔ وہ فریق ثانی کی طرف سے پیش آنے والی ہر زیادتی کو یک طرفہ طور پر برداشت کریں۔
یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل فضا پیدا ہو جس میں لوگ اسلام کا مطالعہ کریں۔ جس میں اسلام کے پیغام کو لوگوں کے سامنے لایا جائے ۔ اور وہ اس پر سنجیدہ ذہن کے ساتھ غور کر سکیں۔
اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ فرقہ وارانہ اختلاف کے معاملہ میں یک طرفہ اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں اور ہر اس قول یا فعل سے مکمل پرہیز کریں جو فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے والا ہو تو اس کے بعد اپنے آپ یہ ہو گا کہ جس طرح ملک کی صنعتی تعمیر کے لیے مغربی سائنس یہاں مطالعہ کا موضوع بنی ہوئی ہے اسی طرح اسلام بھی یہاں سماجی تعمیر کے لیے مطالعہ اور غور و فکر کا موضوع بن جائے گا، اور پھر اپنے آپ ملک میں ایک نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی۔ ۲۔ مذکورہ عمل اس ملک میں اسلام کی اشاعت کے لیے شرط اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ کچھ اور مددگار اعمال کی بھی ضرورت ہے۔ مثلاً مسلمان ملک کی زبان کو سیکھیں اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues