Al-Risala · May 1993 · page 7

مسجد اور مسلمان

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۷

تھے تو یقینی طور پر اس کا نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ مذکورہ مقام پر دوبارہ بابری مسجد بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس عملاً جو نتیجہ نکلے گا وہ یہ کہ مسلمان پورے ملک میں فسادات کی زد میں آجائیں گے۔ وہ بے شمار ایسی مشکلوں میں گھر جائیں گے کہ اس ملک میں عزت کے ساتھ رہنا ہی ان کے لیے دشوار ہو جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ ۶ دسمبر کے بعد دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس معاملہ میں اب مسلمانوں کے لیے جو انتخاب ہے وہ بابری مسجد بنانے یا بابری مسجد نہ بنانے کے درمیان نہیں ہے، بلکہ بابری مسجد اور ملت کی تباہی کے درمیان ہے۔ یعنی مسلمان اگر دوبارہ اسی مقام پر بابری مسجد تعمیر کرنے کی مہم چلائیں تو اس کے نتیجہ میں یہ نہیں ہونے والا ہے کہ بابری مسجد اپنے اصل مقام پر بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس جو ہوگا وہ یہ کہ انڈیا کے مسلمان ناقابل بیان تباہی میں پھنس کر رہ جائیں۔

یہاں میں آپ کو ایک اور شرعی حکم یاد دلاتا ہوں جو بہت زیادہ اس مسئلہ سے متعلق ہے۔ اس حکم کو قرآن کی زبان میں اضطرار کہا جاتا ہے۔ مثلاً خنزیر کا گوشت کھانا اسلام میں مطلق حرام ہے۔ لیکن ایک شخص اگر مضطر ہو جائے۔ یعنی وہ ایسی صورت حال میں مبتلا ہو جائے کہ اس کے پاس کھانے کے لیے صرف خنزیر کا گوشت ہو۔ اس کے لیے دو میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا موقع ہو۔ یا تو وہ خنزیر کا گوشت کھا کر اپنی جان بچائے یا پھر بھوک سے مر جائے۔ ایسی حالت میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس آدمی کو خنزیر کا گوشت کھا لینا چاہیے۔ کیوں کہ جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کرنا اسلام میں جائز نہیں۔

اس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھئے تو آج یہی نازک مسئلہ انڈیا کے پورے مسلم گروہ کے لیے پیدا ہو گیا ہے۔ پھر جو شریعت ایک جان کو بچانے کے لیے حرام غذا کو حلال کر دیتی ہے، وہ شریعت کیا بارہ کروڑ انسانوں کے ایک مسلم گروہ کو ہلاکت سے بچانے کے لیے انھیں کوئی رعایت نہ دے گی۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ بابری مسجد کو بچانا مسلمانوں کی قومی ذمہ داری تھی، تب بھی موجودہ حالت میں یہ ذمہ داری ان سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اب خود شریعت کے حکم اضطرار کے تحت

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page