Al-Risala · May 1993 · page 8

مسجد اور مسلمان

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۸

ان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ بابری مسجد کے مسئلے سے الگ ہو جائیں تاکہ اپنے آپ کو مزید ذلت اور ہلاکت سے بچا سکیں۔

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ : مخيّر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار أيسرھما( (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب فرماتے) اس حدیث کو سامنے رکھ کر سوچئے تو اس وقت مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک چیز کے انتخاب کا موقع ہے۔ ایک یہ کہ بابری مسجد کے اشو سے خود کو الگ کر کے اس کو ملک کے ضمیر کے حوالے کر دیں۔ دوسرے یہ کہ بابری مسجد کے لیے وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں۔ دونوں صورتوں کا تقابل کیجئے تو یقینی طور پر پہلی صورت آسان اور دوسری صورت انتہائی مشکل ہے۔ ایسی حالت میں عین سنت رسول کا تقاضا ہے کہ مسلمان آسان صورت کو اپنا لیں اور مشکل صورت کو چھوڑ دیں۔

اس روش کو اختیار کر کے مسلمان کوئی نئی بات نہیں کریں گے ۔ وہ وہی کریں گے جس پر وہ تقریباً پچاس سال سے اس ملک میں عمل کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ۱۹۴۷ میں پنجاب ، ہریانہ اور راجستھان میں ہزاروں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئیں مختلف طریقوں سے ان کی بے حرمتی کی گئی۔ مگر مسلمانوں نے کبھی بھی ان مسجدوں کے نام پر کوئی ایجی ٹیشن نہیں چلایا۔ کیوں کہ اس معاملہ میں انھوں نے اپنے کو مضطر پایا تھا۔ اب اگر وہ بابری مسجد کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیں تو یہ عین وہی ہوگا جس پر اس سے پہلے سے وہ عملاً قائم رہے ہیں۔ میں نے جو تین نکاتی فارمولا پیش کیا ہے وہ باعتبار حقیقت کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ جو دھیا کی مسجد کے معاملہ میں اسی اصول کو باعزت طور پر لاگو کرنا ہے جو عملاً ملک کی ہزاروں مسجدوں کے بارے میں تمام علما کی مرضی سے اختیار کیا جا چکا ہے۔

اس تین نکاتی فارمولے میں ایک طرف مسلمان مزید جان و مال کی ہلاکت سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ فریق ثانی اس کے ذریعہ اس بات کا پابند ہو جاتا ہے کہ وہ آجودھیا جیسے عمل کو ملک کی کسی اور مسجد کے ساتھ کبھی نہ دہرائے۔ تیسرے یہ کہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page