مسجد اور مسلمان
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۹
عبادت گاہوں کے لیے ایک محکم دستوری ضمانت مل جاتی ہے۔
جیسا کہ میں نے کہا ، اس فارمولے کا مقصد مسجد کے بارہ میں شرعی حکم کو بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ مسلمانوں کی اپنی ذات کے اعتبار سے اس معاملہ میں ان کے لیے شریعت کا حکم کیا ہے۔
اس فارمولے کو مان کر اگر اس کی تعمیل کر دی جائے تو اس کا غیر معمولی فائدہ مسلمانوں کو اور پورے ملک کو ملے گا۔ اس کے بعد ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔ نفرت اور تشدد کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اس طرح مسلمانوں کو اور دوسرے تمام طبقوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کی تعمیر میں پر امن طور پر لگ سکیں۔ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر ترقی اور کامیابی کی طرف اپنا سفر شروع کر دیں۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے۔ اس ملک کے تمام لوگوں کو سچی سمجھ دے تاکہ وہ اس ملک کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا سکیں۔ نوٹ : ایک تقریر جو ۱۵ فروری ۱۹۹۲ کو دہلی میں کی گئی۔