ایودھیا کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰
ایودھیا کا مسئلہ
نئی دہلی کے ادارہ مرکز برائے پالیسی ریسرچ (Centre for Policy Research) کے ہال میں ۵ مارچ ۱۹۹۳ء کو ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں ملک کے ممتاز دانشور تقریباً چالیس کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع ایودھیا اور اس کے بعد مسائل پر مذاکرہ کرنا تھا۔ اظہار خیال کی زبان انگریزی تھی۔ ذیل کی تقریر اسی موقع پر پیش کی گئی۔ آج کی اس میٹنگ کے لیے بحث کا موضوع ایودھیا اور اس کے بعد ہے۔ اس بحث کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ میں خاص طور پر اس پہلو پر کچھ باتیں عرض کروں گا کہ ایودھیا میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کا واقعہ پیش آنے کے بعد انڈیا میں سیکولرزم کا مستقبل کیا ہے۔ کچھ لوگ اس بارہ میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ مگر میں ذاتی طور پر اس بارہ میں پرامید ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ۶ دسمبر کے حادثہ نے اس ملک میں سیکولرزم کی اہمیت کو از سر نو ثابت شدہ بنا یا ہے۔ وہ ملک کے سیکولر عناصر کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ یہاں سیکولرزم کو مزید قوت کے ساتھ قائم کر سکیں۔
۶ دسمبر کو ایودھیا میں جو واقعہ پیش آیا وہ تشدد کا واقعہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مندر۔ مسجد تحریک کے علم برداروں نے محسوس کیا کہ وہ پر امن طور پر اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہ تشدد پر آمادہ ہو گئے۔
مگر تشدد کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ الٹا نتیجہ دینے والا (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ تشدد کرنے والا اپنے خیال کے مطابق، اپنے حریف کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ مگر نتیجہ کے لحاظ سے تشدد خود صاحب تشدد کی نفی ہے۔ تشدد صاحب تشدد کی نظریاتی صداقت کی تردید ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ۶ دسمبر در اصل اس دن کی علامت ہے جب کہ مندر۔ مسجد تحریک اپنے آخری منطقی انجام کو پہنچ گئی۔
اس واقعہ کے بعد سیکولرزم کی اہمیت از سر نو ثابت ہو گئی ہے۔ سیکولرزم کیا ہے سیکولرزم کا