متھرا کی مسجد
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶
یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیر لیڈر مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے ۶ دسمبر کے واقعہ کو ایک قومی المیہ (national tragedy) قرار دیا ہے۔ مسٹر جے ایس یادو (ہندوستان ٹائمز ۲ جنوری ۱۹۹۳) کے الفاظ میں، اب خود ملک کا وجود داؤ پر لگا ہوا ہے :
The very survival of our nation is at stake. غیر گاندھیائی طریقہ مہاتما گاندھی نے ۱۹۲۱ میں انگریزوں کے خلاف سول نافرمانی (civil disobedience) کی تحریک چلائی۔ ان کا اعلان تھا کہ یہ تحریک مکمل طور پر اہنسا کے اصول پر چلے گی۔ اس کے دوران کسی کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا جائے گا۔
لیکن ۵ فروری کو کانگریس کمیٹی کے لوگوں نے چورا چوری میں وہاں کے تھانہ کو آگ لگادی۔ اس میں کچھ کانسٹیبل جل کر مرگئے۔ مہاتما گاندھی کو معلوم ہوا تو انھوں نے اس واقعہ کو ہمالیائی غلطی (Himalayan blunder) بتایا اور فوراً تحریک کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اجودھیا میں سخت تر انداز میں تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس تحریک کے لیڈروں نے اپنی مندر۔ مسجد تحریک کے خاتمہ کا اعلان نہیں کیا۔ اس کے برعکس ان کے انتہا پسند عناصر بلا روک یہ کہہ رہے ہیں کہ : اجودھیاتو جھانکی ہے، متھرا کاشی باقی ہے۔ یہ بلاشبہ قوم کے باپو مہاتما گاندھی کے مسلمہ طریقہ کے خلاف ہے۔ اور یہ غیر گاندھیائی طریقۂ دیش کو کامل تباہی کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔ اجود ھیا کی غلطی کی کم سے کم تلافی یہ ہے کہ اب اس قسم کی بولی بولنا مکمل طور پر بند کیا جائے۔ اور یہ عہد کیا جائے کہ اس قسم کا عمل اب کہیں اور کبھی ہرگز نہیں دہرایا جائے گا۔
متھرا کی مسجد
متھرا میں ایک بڑی مسجد ہے۔ اس کو اورنگ زیب نے ۱۶۶۹ء میں بنوایا تھا۔ عام طور پر یہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ یہ مسجد شری کرشن کے جنم استھان پر بنائی گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کو توڑ کر وہاں شری کرشن کا مندر تعمیر کیا جائے۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے میں خود ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کو دہلی سے متھرا گیا۔ وہاں میں نے کئی