متھرا کی مسجد
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷
ہندودوستوں کے ساتھ اس کو مکمل طور پر دیکھا۔ متھرا کے کچھ واقف کار ہندوؤں اور مسلمانوں سے اس کے بارہ میں گفتگو بھی کی۔
میں نے دیکھا کہ وہاں ایک طرف ایک خوب صورت مسجد ہے۔ اگرچہ اس کا راستہ زیادہ اچھا نہیں۔ دوسری طرف مندر کا وسیع اور عظیم کا مپلکس ہے جس کو شری کرشن کا جنم استھان کہا جاتا ہے۔ اجو دھیا کے تجربہ کے پیش نظر میرا خیال تھا کہ شری کرشن کا جنم استھان غالباً کسی متنازعہ زمین پر مسجد کے اندرونی حصہ میں واقع ہے۔ اور اسی لیے اس کی مانگ کی جارہی ہے۔ مگر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ حقیقی صورت حال اس سے بالکل مختلف ہے۔
ہم لوگ مندر کے مختلف حصوں کو دیکھتے ہوئے ایک خاص کمرہ میں پہنچے۔ یہاں ایک سجائے ہوئے چبوترہ پر شری کرشن کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی دوسری متعلق چیزیں آس پاس موجود تھیں ۔ بتایا گیا کہ یہی وہ خاص مقام ہے جہاں شری کرشن نے جنم لیا تھا۔ یہ جگہ پوری طرح مندر کے احاطہ میں تھی۔ چنانچہ اس کو دیکھ کر ایک ہندو بھائی نے کہا : متھرا کو اجودھیا کی کیٹیگری میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ کیوں کہ کرشن کا جنم استھان تو مندر کے اندر ہے، وہ مسجد میں شامل نہیں۔ کوئی بھی شخص متھرا جاکر اس واقعہ کو دیکھ سکتا ہے۔ جب شری کرشن کے جنم کی جگہ عملاً مندر کے احاطہ میں ہے تو اس کے لیے مسجد کی مانگ کیوں کی جاتی ہے جو اس سے باہر الگ زمین پر واقع ہے۔ اگر اجودھیا کی مسجد کے خلاف تحریک کا جواز یہ تھا کہ وہ شری رام کے جنم کی جگہ پر بنی ہے تو متھرا کی مسجد کی مانگ کا جواز کیا ہوگا جو واضح طور پر شری کرشن کے جنم استھان سے باہر بنائی گئی ہے۔ مزید یہ کہ متھرا کے مسئلہ میں مبینہ طور پر مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقریباً چالیس سال پہلے ایک راضی نامہ ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں میں اس مسئلہ پر نزاع ہوئی۔ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ آخرکار ۱۹۶۸ میں متھرا کے کئی بزرگوں کی کوشش سے، جن میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی، دونوں فریقوں کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کے مطابق ،مسلمانوں نے مسجد کے پاس کی موقوفہ زمین کا بڑا حصہ ہندوؤں کے حوالے کر دیا۔ اس زمین پر شری کرشن کا بہت بڑا کا مپلکس تعمیر کیا جا چکا ہے۔ ایسی حالت میں ایک طے شدہ معاملہ کو دوبارہ اٹھانے کے لیے اس کے دعوے داروں کے پاس کیا جواز ہے۔