ایک رپورٹ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸
ایک رپورٹ
اس موضوع پر اخبارات ورسائل میں کئی معلوماتی رپورٹیں چھپ چکی ہیں۔ انہیں میں سے ایک رپورٹ مدراس کے انگریزی میگزین فرنٹ لائن (Frontline) کی ہے۔ یہ اس کے شمارہ ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ء کی کور اسٹوری ہے جس کا عنوان ہے کیسری انتہا پسند (Saffron Extremism) میگزین کے رپورٹر وینکٹیش راما کرشنن (Venkitesh Ramakrishnan) نے متھرا جا کر وہاں جو براہ راست معلومات حاصل کی ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں کرشن جنم استھان ٹرسٹ اور عید گاہ مسجد ٹرسٹ کے درمیان عرصہ سے مقدمات جاری تھے۔ یہاں تک کہ ۱۹۵ میں دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے ایک تحریری معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کی تکمیل میں کئی مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں کا ہاتھ تھا۔ مثلاً دیودھر شاستری وغیرہ۔ پنڈت مدن موہن مالویہ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی کوششیں بھی اس میں شامل رہی ہیں۔
اس معاہدہ کے مطابق، دونوں کی زمینی حد بندی کر دی گئی تھی اور یہ طے پایا تھا کہ مسجد اور مندر دونوں آس پاس قائم رہیں گے۔ رپورٹر نے اس سلسلہ میں مختلف مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں، رپورٹ کے مطابق، ہندوؤں کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ یہاں کوئی نزاع نہیں۔ عام ہندؤوں کا کہنا ہے کہ ہر بات طے ہو چکی ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی، ہر ایک کو اجازت ہے کہ وہ یہاں آئے اور اپنی عبادت کرے۔ ہم کیوں لوگوں کو الگ کرنے کی کوشش کریں اور نئے مسائل پیدا کریں۔ بابو لال شلپی، جو کہ کرشن جنم بھومی کی تعمیرات میں شریک رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ہر بات ۱۹۶۸ میں طے ہو گئی تھی۔ جو کچھ ہم کو مل چکا ہے عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی یہ تمام باتیں صرف سیاست ہیں۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔