Al-Risala · May 1993 · page 19

بنارس کی مسجد

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۹

بنارس کی مسجد

اب بنارس (کاشی) کے معاملہ کو لیجئے۔ مندر ۔ مسجد تحریک کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہاں گیان واپی کے نام سے جو مسجد ہے، اس کو اور نگ زیب نے ایک مندر کو توڑ کر بنایا تھا۔ اس لیے اب ہم اس کو ختم کریں گے اور اس کی جگہ پر دوبارہ ایک مندر کی تعمیر کریں گے۔ اپنے اس منصوبہ کو وہ لوگ "تاریخ کی تصحیح" کا نام دے ہیں۔

اس سے قطع نظر کہ بنارس کی مذکورہ مسجد کے بارہ میں یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط، تاریخ کی تصحیح کا یہ نظریہ آج عالمی سطح پر رد کیا جا چکا ہے۔ اس قسم کا نظریہ در حقیقت مذہبی تعذیب (religious persecution) کے اس دور کو نئے نام کے ساتھ واپس لانا ہے جس کو موجودہ زما میں صرف دور وحشت کی چیز سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظریہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے فنانزم ہے نہ کہ فی الواقع تاریخ کی تصحیح ۔

ناگپور کے ایک بودھ دانشور ڈاکٹر ویمل کیرتی (Dr. Vimal Kirti) نے بجا طور پر کہا ہے کہ جو ہندو صاحبان آج تاریخ کی تصحیح کی بات کرتے ہیں، کیا وہ اپنے اس نظریہ کو تاریخ میں اور پیچھے تک لے جائیں گے۔ کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں کہ خود ان کے ساتھ بھی وہی کیا جائے جو وہ دوسروں کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہندو صاحبان جس چیز کا الزام اورنگ زیب کو دیتے رہے ہیں، وہ اس سے نہ زیادہ بڑے پیمانے پر خود انھوں نے بھی انڈیا کے بودھوں کے ساتھ کیا تھا۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ چھٹی صدی عیسوی اور ساتویں صدی عیسوی میں بھارت کے برہمنوں نے اس وقت کے راجاؤں کی مدد سے بدھوں کے خلاف سخت تعذیبی اقدامات کیے۔ انھوں نے بہت سے بودھ عبادت خانے توڑ ڈالے اور ان کی جگہ ہندو مندر بنا دیا : From time to time Hindus, especially Saivites, took aggressive action against Buddhism. At least two Saivite kings - the Huna invader Mihirakula (early 6th century) and the Bengal King Sasanka (early 7th century) - are reported to have been active persecutors, destroying monasteries and killing monks (8/914). عبادت خانوں کو توڑنے کے واقعات اس گزرے ہوئے زمانہ میں پیش آئے جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page