فرنٹ لائن کا جائزہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
دنیا میں مذہبی تعذیب (religious persecution) کا عام رواج تھا۔ اب وہ دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی بات کرنا ایک سنگین قسم کی خلافِ زمانہ حرکت ہے (anachronism)۔ اس تحریک کے علم برداروں کو جاننا چاہیے کہ یہاں زمانی عامل (age-factor) ان کی راہ میں حائل ہے۔ جو لوگ ایسا کام کرنے کے لیے اٹھیں، ان کو زمانہ ہمیشہ رد کر دیتا ہے۔ دنیا ان کو رجعت پسند قرار دے کر انھیں پیچھے کی صف میں دھکیل دیتی ہے۔ اس انجام سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ باہر کی دنیا میں صفائی پیش کرنے والے وفود بھیجے جائیں۔ اس سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہے۔ یہ کہ ایسا کام ہی نہ کیا جائے جو زمانہ کے مسلمہ معیار کے خلاف ہو۔ جو زمانہ کی نظر میں اپنے آپ کو حقیر بنا دینے والا ہو۔
قدیم زمانہ میں مذکورہ قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آئے ہیں۔ اس لیے اگر تصحیح تاریخ کے اس اصول کو اختیار کیا جائے تو وہ کسی ایک گروہ پر نہیں رکے گا بلکہ وہ ہر گروہ تک جا پہنچے گا۔ اور پھر اس کے نتیجہ میں جو چیز حاصل ہوگی وہ تاریخ کی تصحیح نہیں ہوگی بلکہ صرف تاریخ کی تخریب ہوگی۔ یہ ماضی کو لینے کے نام پر حال کو کھو دینا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کے علم برداروں کے لیے یہاں انتخاب دوبارہ مسجد اور تصحیح تاریخ میں نہیں ہے، بلکہ مسجد اور مکمل تباہی میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں عالمی طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اس طرح کے نزاعی معاملات میں ماضی کے بند ابواب کو نہ کھولا جائے ۔ بلکہ حال اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت طور پر قومی تعمیر کا کام جاری رکھا جائے ۔
فرنٹ لائن کا جائزہ
ہفت روزہ فرنٹ لائن کے رپورٹر وینکٹیش را ماکرشنن نے بنارس جا کر اس معاملہ کی تحقیق کی ہے۔ فرنٹ لائن کے شمارہ (۲۹ جنوری ۱۹۹۲) میں اس کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجودھیا کی طرح متھرا اور بنارس میں بھی جھگڑے کی بنیاد حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ صرف افسانہ پر مبنی ہے :
As at Ayodhya, the “disputes” at Mathura and Varanasi have their basis in myths (p.12).