ہندوستان اور مسلمان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
نظام قائم ہوتاریخ ہے، ان تمام قدروں کی عملی مثاسیں حقیقی واقعات کی صورت میں اسلام کی تا میں محفوظ ہیں۔ ضرورت تھی کہ ان کو خالص تاریخی اسلوب اور حقیقت نگاری کے اندازمیں مرتب کرکے اہل ملک کے سامنے لایا جائے اور اس سے لوگوں کو باخبر کام جائے۔ مگر یہ کیا نہ ہوسکا۔ اگر کسی نے کوئی کتاب لکھی بھی ہے تو وہ قومی فخر کے انداز میں ہے نہ کہ بے لاگ واقعہ نگاری کے انداز میں۔
موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نئے دور میں منفی ذہن لے کر داخل ہوئے۔ وہ مثبت ذہن کے تحت نئے دور میں داخل نہ ہو سکے۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے مر کا آغاز بھی ہے اور یہی اس کا اختتام بھی۔ اسی نئے دور میں ان کی تاریخ بگڑی ہے اور یہیں سے از سر نو ان کی تاریخ بننا شروع ہوگی۔
ہندوستان کے مسلم قائدین، ۱۹۴۷ سے پہلے ۱۴ پوائنٹ پر مشتمل مطالبے پیش کرتے رہے اور ۱۹۴۷ کے بعد وہ ۲۰ پوائنٹ پر مشتمل مطالبے پیش کر رہے ہیں۔ بالفاظ دیگر، وہ ال ملک میں مسلسل مانگنے والے بنے ہوئے ہیں۔ اور تاریخ کا یہ فیصلہ ہے کہ کوئی شخص یا قوم بیک وقت دینے والا اور مانگنے والا نہیں بن سکتا۔ مسلمان چونکہ مانگنے والے بنے ہوئے ہیں، اس لیے وہ اس ملک میں دینے والے بھی نہ بن سکے۔
نوٹ : ۱۰ نومبر ۱۹۹۲ء کو ناگپور میں ایک کنونشن ہوا۔ اس کا موضوع ”قومی اتحاد، ایک اور سیکولرزم “ تھا۔ یہ مقالہ اس تقریر پر مبنی ہے جو اس موقع پر وسنت راؤ دیش پانڈے ہال میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مشترک مجمع میں کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues