مذہبی ہم آہنگی اور اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵
مذہبی ہم آہنگی اور اسلام
پر امن دنیا کی تعمیر بلاشبہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اور اس مسئلہ کا بہت گہرا تعلق اس چیز سے ہے جس کو مذہبی ہم آہنگی (religious harmony) کہا جاتا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا کوئی قابل عمل فارمولا دریافت کیا جائے ۔ مذہبی امن ہی پر، بڑی حد تک، عالمی امن کا انحصار ہے۔ اسلام سماجی امن کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر یک طرف صبر کے ذریعہ امن قائم ہو سکتا ہو تو ایک طرف صبر و برداشت کی قیمت دے کر امن کا ماحول قائم کیا جائے ۔ اس کی ایک واضح مثال اسلامی تاریخ کے دور اول کا وہ واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً دس سال کا امن معاہدہ تھا۔ اور پیغمبر اسلام نے امن کا یہ معاہدہ جنگ جو دشمن کی تمام مانگوں کو ایک طرفہ طور پر منظور کر کے حاصل کیا تھا۔ مذہبی ہم آہنگی کا ماحول قائم کرنا اسلام کا عین مطلوب ہے۔ تاہم اصل مقصد سے پورا اتفاق رکھتے ہوئے اس معاملہ میں اسلام کی تدبیر مجوزہ تدبیروں سے کسی قدر مختلف ہے۔ اس معاملہ میں اسلام کی تدبیر کا خلاصہ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی نہیں، بلکہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی۔ اگلی سطروں میں اس کی کسی قدر وضاحت کی جائے گی۔ مذہبی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جتنے نظریے پیش کیے گئے ہیں یا پیش کیے جا سکتے ہیں، وہ بنیادی طور پر غالباً تین قسم کے ہیں۔ ان میں سے دو وہ ہیں جو مذہب کی نئی تشریح پر مبنی ہیں۔ بعض اسکالر قسم کے ذہنوں نے بطور خود مذہب کی کچھ تشریحات کی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی یہ تشریحات عمومی طور پر قبول کر لی جائیں تو اس کے بعد اپنے آپ سماج میں مذہبی ہم آہنگی کی حالت پیدا ہو جائے گی۔ تیسری تدبیر وہ ہے جو مذہب کی کسی مخصوص تشریح پر مبنی نہیں۔ اس کی حیثیت صرف ایک عملی تدبیر کی ہے۔ بڑی تقسیم کے مطابق ، مذہبی ہم آہنگی کے یہی تین نظریات ہیں۔ ان کو الگ الگ سمجھنے کے لیے انھیں حسب ذیل تین نام دیے جا سکتے ہیں _ _ _ _ _ _ سیکولر حل،
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues