Al-Risala · May 1993 · page 37

آگے کی طرف

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷

اس کے باوجود اسلام کی تاریخ نہیں رکی۔ اور کعبہ کی مقدس مسجد پر گولہ باری کرنے والوں ہی نے دوبارہ اس کی تعمیر کرائی۔ ۱۲۵۸ء میں تاتاریوں نے مسلم دنیا پر حملہ کیا اور سمرقند سے حلب تک سیکڑوں مسجدوں کو ڈھا دیا۔ مگر اس حادثہ کے بعد بھی اسلام کی تاریخ نہیں رکی اور دوبارہ انھیں تاتاریوں نے ان تمام مسجدوں کو پھر سے تعمیر کرایا۔ خود انڈیا میں، ۱۴۱۹ میں ہریانہ اور پنجاب اور راجستھان کے علاقہ میں ہزاروں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئیں۔ مگر اس کے باوجود یہاں اسلام کی تاریخ نہیں رکی۔ پھر اجودھیا کی بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے کیوں ایسا ہوگا کہ اسلام کی تاریخ آگے بڑھنے سے رک جائے گی۔

اس وقت مسلمانوں کے لیے اہم بات یہ نہیں ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اب بھی تین لاکھ سے زیادہ مسجدیں انڈیا میں موجود ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں ان کے چھوٹے اور بڑے مدرسے سارے ملک میں قائم ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے اسلامی ادارے اور اسلامی جماعتیں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ ۶ دسمبر کا حادثہ پیش آنے کے باوجود مسلمانوں کے لیے ترقی کے تمام مواقع بدستور یہاں موجود ہیں۔ ایسی حالت میں ان کے لیے مایوسی یا دل شکستگی کا کوئی سوال نہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ نئے عزائم کے ساتھ اپنی تعمیر کا عمل شروع کردیں، اور پھر بہت جلد وہ دیکھیں گے کہ ۶ دسمبر کو انھوں نے جتنا کھویا تھا اس سے بہت زیادہ انھوں نے ۶ دسمبر کے بعد یہاں اپنے لیے پالیا ہے۔ یہی ماضی کا پیغام ہے اور یہی مستقبل کی پکار بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page