ہمت کا امتحان
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۸
ہمت کا امتحان
انڈیا میں مسجد مندر کا جھگڑا پچاس سال سے بھی زیادہ عرصہ سے چل رہا ہے مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دونوں فرقوں کے درمیان موجودہ قسم کی سرگرمیاں اس جھگڑے کو طرف بڑھاتی رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد اب یہ قضیہ اس مرحلہ میں پہنچ گیا ہے کہ جے پی کے سینیر لیڈر مسٹر اٹل بہاری باجپائی نے اس کو قومی المیہ (national tragedy) قرار دیا ہے۔ مسٹر جے ایس یادو (J.S. Yadav) کا ایک مضمون ہندوستان ٹائمس )۲جنوری ۱۹۹۳)میں میں چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے :- "Turning adversity into an opportunity."
اس میں انھوں نے بجا طور پر لکھا ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے سماج کے لیے سرطان بن گیا ہے، اور ۶ دسمبر کو بابری مسجد کا ڈھایا جانااس عداوتی سرطان کا پہلا اظہار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود قوم کا بقا اس وقت داؤ پر لگا ہوا ہے :
"It has become cancerous and the demolition of the Babari Masjid is the first major eruption of the malignant tumor of Indian polity. The very survival of our nation is at stake. (p. 11)"
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس مسئلہ کو لا متناہی طور پر جاری رکھیں گے یہاں تک کہ وہ اپنی اس آخری حد پر پہنچ جائے کہ ہر طرف انارکی پھیل جائے ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہند و اور مسلمان دونوں برباد ہو کر فرقہ بن کر رہ جائیں جس طرح لبنان اور یوگوسلاویہ میں، اسی طرح کے جھگڑوں کے نتیجہ میں پیش آ چکا ہے ۔
یا ہم ایسا کریں گے کہ مسجد اور مندر کے جھگڑے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے تاکہ ملک ترقی کے راستہ پر بے روک ٹوک اپنا سفر شروع کر سکے اور بالآخر ایک طاقت ور قوم کی حیثیت سے عالمی نقشہ پر نمایاں ہو۔ ہر محب وطن یقینایہ کہے گا کہ ہمیں اسی دوسری بات کا فیصلہ کرنا چاہیے اور جرأت مندانہ طور پر ایک ایسے حل پر راضی ہو جانا چاہیے جس میں یکساں طور پر دونوں فرقوں کا بھلا ہو۔