مذہبی ہم آہنگی اور اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۶
وحدت ادیان، مذہبی رواداری۔
اسلام کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ دین فطرت ہے۔ چنانچہ اسلام ہر مسئلہ کے فطری حل کو پسند کرتا ہے۔ مذکورہ تینوں تدبیروں میں ابتدائی دو تدبیریں حقیقۃً مصنوعی تدبیریں ہیں۔ جب کہ تیسری تدبیر فطری تدبیر ہے۔ یہی تیسری تدبیر اسلام کے مزاج کے مطابق ہے اور اسلام اس کی حمایت کرتا ہے۔
۱۔ مذہبی ہم آہنگی لانے کی مذکورہ تجویزوں میں پہلی تجویز مذہب کی سیکولر تعبیر پر قائم ہے۔ اس کے مطابق، مذہب لوگوں کا نجی یا شخصی عقیدہ ہے۔ اجتماعی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس نظریہ کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس اصول کو ماننے کے بعد مذہبی جھگڑے باقی نہیں رہ سکتے۔ اس کے بعد مذہب اگر باقی رہے گا تو محدود طور پر صرف افراد کی پرائیویٹ زندگی میں باقی رہے گا۔ اس کے باہر اس کا کوئی وجود نہ ہوگا۔ اور جب باہر کی زندگی میں مذہب کا وجود نہ ہوگا تو وہ اجتماعی زندگی کے لیے کوئی مسئلہ بھی نہ بن سکے گا۔ یہ حل یقینی طور پر ناقابل عمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مذہب کی ایک نئی تشریح کے اوپر قائم ہے۔ اس تشریح کو نہ اب تک اہل مذاہب نے مانا ہے اور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے کہ وہ اس کو مان لیں۔ پھر جس تشریح کو اہل مذاہب ماننے کے لیے تیار نہ ہوں، اس کو عملی طور پر کس طرح قائم کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ اس کو ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اسلام کے نزدیک دین کا تعلق انسان کے سارے معاملات سے ہے نہ کہ محض ذاتی عقائد سے۔
مزید یہ کہ یہ طرزِ فکر سراسر غیر فطری ہے۔ یہ انسان کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ ایک نقطہ کو سچا سمجھے، اس کے باوجود وہ نقطۂ نظر صرف اس کے پرائیویٹ دائرہ میں محدود رہے۔ جس طرح رنگ پانی کے گلاس میں ڈالنے کے بعد ضرور پھیلتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ جب ایک تصور کو بطور صداقت مان لیں تو یہ اعتراف کسی مخفی دائرہ میں محدود ہو کر نہیں رہ سکتا۔ وہ ضرور پھیلتا وہ نجی زندگی سے نکل کر اجتماعی زندگی تک پہنچنا چاہے گا۔
مذکورہ اسباب کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ مذہب کی سیکولر تشریح کے تحت وہ سماج
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues