سب سے بڑا خطرہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴
میدان میں سرگرم ہوگئے۔ اس کا نتیجہ ایک عظیم ترقی کی صورت میں آج ساری دنیا کے سامنے ہے۔ ہندو دانشور اگر سچی دانشوری کرتے تو وہ ہندوؤں سے کہتے کہ حکومت نے مسلمانوں کو پرسنل لاء ایکٹ دیا ہے تو تم کو بھی اس نے ایک بہت بڑی چیز دی ہے۔ وہ یہ کہ بابری مسجد کا بند تالا کھول کر اس کے اندر تم کو درشن اور پوجا کی اجازت دے دی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انڈیا میں بھی وہی واقعہ ہوتا جو جاپان میں پیش آیا۔ مگر ہندو دانشور جاپانی دانشوروں جیسی رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ اس کا نتیجہ عظیم تباہی کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔
ہر سماج میں ہمیشہ مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان واقعات کی ایک اصل توجیہہ ہوتی ہے، اور ایک اصل حقیقت سے ہٹی ہوئی توجیہہ۔ عام آدمی اس فرق کو سمجھ نہیں پاتا۔ یہ خواص (انٹلیکچول کلاس) کا کام ہے کہ وہ واقعہ کا گہرا مطالعہ کرے اور اس کی صحیح توجیہہ لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے :
اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ اور اگر وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں، وہ اس کی حقیقت کو جان لیتے ۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے (النسا، ۸۲)
بدقسمتی سے انڈیا میں دونوں فرقوں کے انٹلیکچول کلاس نے اس معاملہ میں اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔ دونوں ہی نے ذہن کو بگاڑنے کا کام بہت بڑے پیمانے پر انجام دیا۔ ایک طرف ہندوؤں کے انٹلیکچول کلاس کے لوگوں نے واقعات کو غلط انداز میں پیش کر کے ہندوؤں کی سوچ کو ہر آلودہ کر دیا۔ دوسری طرف مسلم انٹلیکچول کلاس نے مسلمانوں کی سوچ کو الٹے رخ پر موڑ دیا۔ یہاں تک کہ دو پڑوسی فرقے جو سیکڑوں سال سے ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن کر کھڑے ہوگئے۔
قرآن میں ایک مرد کو چار عورتوں تک سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ قطعی طور پر ایک ایمر جنسی کا قانون ہے۔ مگر ہندو دانشوروں نے اس کو انتہائی خلاف واقعہ طور پر عام حکم