سب سے بڑا خطرہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵
کی حیثیت دے دی۔ انھوں نے ہندو کو بتایا کہ دیکھو، پاکستان بنوا لینے کے بعد بھی مسلمان تمہارے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ ہر مسلمان اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق، چار شادی کرتا ہے اور بے تحاشا بچے پیدا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونے والا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہو جائے ۔ اور وہ یہاں تمہارے اوپر حکومت کرنے لگیں۔
یہی خطرہ کی نفسیات مسلم دانشوروں نے بھی مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر پیدا کی۔ ملک کا بٹوارہ ہندو۔ مسلم منافرت کی بنا پر ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد لوگ معمولی معمولی باتوں پر بھڑکنے لگے اور فساد کی صورتیں پیدا ہوتی رہیں۔ ان فرقہ وارانہ فسادات کا اصل سبب صبر و اعراض نہ کرنا تھا۔ مگر مسلم دانشوروں نے اس کو غلط طور پر اس مفروضہ سے جوڑ دیا کہ ہندو انڈیا کو مسلمانوں کے لیے دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں اور ہندو لیڈر بار بار اسپین کا سفر کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے وہ تکنیک سیکھ کر آئیں جس کو یہاں دہرا سکیں۔
یہ دونوں ہی باتیں بالکل بے بنیاد تھیں۔ ان میں سے کسی کی بھی کوئی اصل نہ تھی مسلمانوں میں چار شادی یا اضافہ آبادی کی بات سراسر افسانہ تھی۔ اسی طرح ہندوؤں کے بارہ میں یہ بات قطعی طور پر ایک افواہ تھی کہ وہ انڈیا کو دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں۔ مگر دونوں طرف کے دانشوروں نے ان کو عوام میں اس طرح پھیلایا کہ یہ خیالات دونوں فرقوں کے اوپر کا بوس بن کر چھا گئے۔ یہی بابری مسجد کے سلسلہ میں پیش آیا۔ ایک طرف ہندو دانش وروں نے دوسری ہار (second defeat) کا نظریہ ایجاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کا بٹوارہ تمہارے لیے پہلی ہار تھی۔ اب بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا بننا تمہارے لیے دوسری ہار ہوگی۔ چنانچہ ہندو بھڑک اٹھا۔ اس نے سوچا کہ پہلی ہار ہم نے انگریزوں کی موجودگی کی وجہ سے برداشت کرلی۔ اب ہم آزاد ہیں، اب ہم کسی قیمت پر دوسری ہار کو قبول نہیں کریں گے۔
دوسری طرف مسلم دانشوروں نے ”علامت“ کا جھوٹا نظریہ ایجاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں ہے، وہ پوری ملت کے وجود و بقا کی علامت ہے۔ اگر یہاں ہم پیچھے ہٹے تو اس کے بعد اس ملک سے ہمارا سارا خیمہ اکھڑ جائے گا۔ مگر یہ ایک لغو بات تھی۔ چنانچہ بابری مسجد کا ڈھانچہ ٹوٹ گیا اور ملت کا وجود بدستور پوری طرح باقی ہے۔