نا اُمیدی میں اُمید
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۶
نا اُمیدی میں اُمید
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی۔ اس کے بعد ۶جنوری ۱۹۹۳ کو دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کا خاتمہ کرنے میں ہمارے دشمن کامیاب ہو گئے ۔ اب آپ کی رائے کیا ہے ۔ کیوں کہ اب تو اس معاملہ میں ہمارے لیے اُمید کا کوئی پہلو باقی نہیں رہا۔
میں نے کہا کہ اس دنیا میں اُمید کی مقدار ، نااُمیدی کی مقدار سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ چنانچہ اس معاملہ میں یقینی طور پر مجھے اب بھی اُمید کا پہلو دکھائی دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہندوؤں نے بابری مسجد کا ایک ایک پتھر وہاں سے ہٹا دیا اور جہاں پہلے بابری مسجد تھی وہاں اپنا ایک عارضی مندر بنا کر کھڑا کر دیا۔ اب کس پارٹی میں یا کس حکومت میں یہ طاقت ہے کہ وہ رام مندر کو وہاں سے ہٹائے اور دوبارہ وہاں بابری مسجد کی تعمیر کرے۔ جب صورت حال یہ ہے تو آپ کیسے کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ہمارے لیے اب بھی اُمید کا پہلو موجود ہے ۔
مذکورہ گفتگو کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ اکثر لوگوں کے لیے مایوسی کا سبب کیا ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ لوگ نا اُمیدی کے مواقع پر اُمید کا پہلو دیکھ نہیں پاتے۔ وہ دل شکستگی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کا سبب سوچ کی کمزوری ہے۔ وہ عین اسی مقام پر اُمید کا پہلو دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ان کے ساتھ نااُمیدی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اور چونکہ اکثر حالات میں اُمید کا مقام نااُمیدی کے مقام سے الگ ہوتا ہے ، اس لیے لوگ یہ سمجھ کر مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان کے لیے اُمید کا پہلو یہاں موجود ہی نہیں۔
مذکورہ مسلمان سے جب میں نے کہا کہ اجودھیا کے واقعہ میں ہمارے لیے اُمید کا پہلو موجود ہے تو اس سے میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ اُمید کا یہ پہلو خود اجودھیا ہی میں موجود ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اجودھیا کی سطح پر اگر چہ بظاہر اُمید کا پہلو ختم ہو گیا ہے۔ مگر ملت کی سطح پر اُمید کا پہلو اب بھی پوری طرح پایا جا رہا ہے۔