نا اُمیدی میں اُمید
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۷
سید مطلب یہ تھا مکہ یہ حادثہ انشاء اللہ مسلمانوں کے لیے زحمت میں رحمت ، (beginning of the end) ثابت ہوگا۔ یہ واقعہ ان کے ذہن کو جھنجھوڑ دے گا۔ وہ ان کی جذباتیت کو ختم کرکے انھیں حقیقت پسند بنائے گا۔ اس کے بعد ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ وہ زیادہ حقیقت پسندانہ طور پر زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہی صورت حال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت پیش آئی تھی۔ حدیبیہ کے معاملہ کو جب قرآن میں فتح مبین کہا گیا تو بعض مسلمانوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ ان کا ذہن اس وقت حدیبیہ کے مقام پر اٹکا ہوا تھا۔ وہ فتح کو عین حدیبیہ کے مقام پر دیکھنا چاہتے تھے۔ اور چونکہ خود حدیبیہ کے مقام پر اس وقت فتح کا کوئی نشان دکھائی نہیں دے رہا تھا، اس لیے ان کی سمجھ میں نہ آسکا کہ حدیبیہ کا معاملہ فتح مبین کا معاملہ کس طرح ہوسکتا ہے۔
دورِ اول میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت جس فتح مبین کی خوش خبری دی گئی تھی وہ مقامِ حدیبیہ سے باہر تھی۔ اسی طرح آج اجودھیا کے معاملہ میں امید کا جو پہلو ہے وہ اجودھیا سے الگ پایا جاتا ہے نہ کہ خود اجودھیا میں ۔
قرآن میں یہ فطری حقیقت بتائی گئی ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عسر کے ساتھ یسر موجود رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس مقام پر عسر کی حالت پیدا ہوئی ہے ، عین اسی مقام پر اور وہیں یسر کی حالت بھی پائی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت عسرظاہر ہوتا ہے ، اسی وقت یسر بھی کہیں نہ کہیں موجود رہتا ہے جس کو غور و فکر کے ذریعہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اسلام کے ابتدائی دور میں جب کہ میں عسر کی حالت پیدا ہوئی تو یسر کی حالت تین سومیل دور مدینہ میں ظاہر ہوئی ۔ حدیبیہ میں جب عسر کا تجربہ ہوا تو یسر کے مواقع عرب کے قبائل میں اشاعت اسلام کی صورت میں سامنے آئے۔ تاتاری حملہ کے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت ٹوٹی تو اسلام کی دعوتی طاقت فاتح تتر بن کر ظاہر ہو گئی۔ وغیرہ۔
اسی طرح اجودھیا کے عسر میں بھی یسر کا پہلو چھپا ہوا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو سمجھا جائے ۔ اور پھر دانش مندی کے ساتھ اس کو مستقبل کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے ۔