Al-Risala · January 1993 · page 27

مذہبی ہم آہنگی اور اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷

ماحول قائم کیا جا سکے جس کو مذہبی ہم آہنگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

مذہبی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دوسرا نظریہ جو پیش کیا جاتا ہے وہ وحدت ادیان کا نظریہ ہے۔ اس نقطہ نظر کے حاملین یہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب ، ظاہری فرق کے باوجود ، حقیقتۂ ایک ہیں۔ تمام مذاہب ایک ہی مشترک منزل کی طرف جانے کے متعدد راستے ہیں۔ اس لیے باہمی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کو اس مذہبی یکسانیت کا یقین دلا دیا جائے۔ جب یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین ہو جائے گی تو اس کے بعد تمام اختلافات اپنے آپ مٹ جائیں گے۔

مگر یہ نقطۂ نظر محض ایک دعویٰ ہے جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں۔ عملی اور تاریخی مطالعہ بتاتا ہے کہ مذاہب کا باہمی فرق محض ظاہری نہیں ہے بلکہ حقیقی ہے۔ مثال کے طور پر خدا کا عقیدہ، جو ایک بنیادی مذہبی عقیدہ ہے ، اس کے سلسلہ میں بعض مذاہب توحید الہٰ (monotheism) کے قائل ہیں اور بعض دوسرے مذاہب وحدت وجود (monism) کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اس نقطۂ نظر سے موافقت نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ، تجربہ کے مطابق ، یہ حل علمی طور پر قابلِ نفاذ بھی نہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ "تمام مذاہب ایک ہیں" کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش بار بار کی گئی ہے اور بار بار ناکام ثابت ہوئی ہے۔ شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۴۲) نے "دین الہی" کے نام پر اس کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے اسی کام کو علمی طور پر کیا۔ اور اپنی عمر کا بہترین حصہ صرف کر کے ایک ہزار صفحہ پر مشتمل ایک کتاب تیار کی۔ مہاتما گاندھی (۱۸۶۹-۱۹۴۸) نے (Essential Unity of All Religions) رام رحیم ایک ہے" کے نعرہ پر اس کو ملک گیر تحریک کے ذریعہ پھیلانا چاہا۔ مگر ہر ایک اپنے قصد میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

پھر جس تجویز کے ساتھ نہ فطری صداقت ہو اور نہ وہ قابلِ عمل ہو تو ایسی تجویز کو مذکورہ مسئلہ کا حل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی تجویز ایک اچھا تخیل ہو سکتا ہے مگر وہ ہر بحث مسئلہ کا ایک اچھا حل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page