قرآن میں تفکر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۶
قرآن میں تفکر
قرآن میں کہا گیا ہے کہ ــــ بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات ا دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں، جو کھڑے اور بیٹھے اور ا کہ وَٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانول اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ وا اُٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (آل عمران ۹۱ - ۱۹۰)
تمام بہترین باتیں آدمی کو غور وفکر کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ ایک عرب شاعر نے نہایت صحیح کہا کہ جب آدمی کے اندر فکر اور سوچ کی کیفیت ہوتی ہے تو ہر چیز سے اس کو نصیحت حاص ہوتی ہے :
إذا المرء كانت له فكرة ففي كل شئ له عبرة
اس آیت کے سلسلہ میں مختلف حدیثیں منقول ہوئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ ان آیتوں کو پڑھیں ان کو چاہیے کہ وہ ا پر غور کریں (فلیتفكروافيها) آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی خرابی ہے جس نے ان آیتو کو پڑھا مگر اس پر غور نہیں کیا روین لمن قرأ هذه الآيات ثم لم يتفكر فيها) ۴۳۱ امام الاوزاعی سے پوچھا گیا کہ ان آیات میں تفکر سے کیا مراد ہے۔ انھوں نے جواب کہ آدمی ان کو پڑھے اور وہ ان کو سمجھے (قيل للأوزاعي ما غاية التفكر فيه قال : يقرؤهن وهو يعقلهن) ۴۳۱/۱ عامر بن عبد قیس کہتے ہیں کہ میں نے ایک سے زیادہ اصحاب رسول کو یہ کہتے ہوئے کہ ایمان کی روشنی غور و فکر ہے (إن ضياء الايمان التفكر) حضرت عمر بن عبدالد نے کہا کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرنا سب سے اعلیٰ عبادت ہے (الفكرة في نعم الله افضل العبادة) بشر بن الحارث الحانی نے کہا کہ اگر لوگ اللہ کی عظمت میں غور کریں تو وہ ا گناہ نہ کریں (لو تنكر الناس في عظمة الله تعالى لما عصوه)