Al-Risala · May 1993 · page 7

شکر خداوندی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۷

شکر خداوندی

انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کا شکر کرنے والا بنے۔ شکر گزاری پورے دین کا خلاصہ ہے۔ نامیں بار بار مختلف انداز میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ شکر کو سب سے بڑی حکمت بتایا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرے گا وہ اپنے ہی لیے شکر کرے گا اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے (لقمان) انسان کے پاس جو کچھ ہے، سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ انسان کا جسم، اس کی ذہنی صلاحیتیں، ندگی کے تمام مواقع، ہر قسم کے وسائل و ذرائع سے بھری ہوئی دنیا، شمسی نظام اور ساری کائنات، نے ذرہ سے لے کر ستاروں تک تمام چیزیں خدا کا عطیہ ہیں۔

ان بے شمار اعلیٰ چیزوں کو دیکھ کر ایک طرف اللہ کی عظمت کا احساس ابھرتا ہے۔ دوسری طرف انسان کے سینے میں یہ سیلاب امڈ پڑتا ہے کہ اللہ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے مجھ کو ہر ضرورت اور ہر راحت کی چیز انتہائی وافر مقدار میں فراہم کردی، جب کہ میں ان میں سے کسی چیز کو بھی پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ احساسات آدمی کے اندرونی وجود میں طوفان بن کر دوڑتے ہیں اور پھر اعتراف کے کلمات کی صورت میں اس کی زبان سے بے تابانہ نکل پڑتے ہیں، اسی کا نام شکر ہے۔

اس سلسلہ میں ایک حدیث نہایت سبق آموز ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت امام احمد اور امام الترمذی نے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص انسانوں کا شکر نہ کرے سے وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرے گا (من لم يشكر الناس لم يشكر الله) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علامت کیا ہے جو یہ بتاتی ہے کہ آدمی کے اندر شکر خداوندی کی کیفیت موجود ہے یا نہیں۔ وہ علامت شکر انسانی ہے۔ اگر لوگوں کے اندر انسانوں کا شکر کرنے کا مزاج پایا جائے تو سمجھنا چاہیے کہ ان کے اندر اللہ کا شکر ادا کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اور اگر یہ دکھائی دے کہ لوگ انسانی احسان کا شکر ادا کرنے کی صفت سے خالی ہو گئے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ خداوندی احسان کا شکر ادا کرنے کی صفت سے بھی خالی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page