مذہبی ہم آہنگی اور اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸
۴۔ اب مذہبی ہم آہنگی کے مقصد کو حاصل کرنے کی تیسری تجویز باقی رہتی ہے۔ اور وہ رواداری ہے۔ یہی قابل عمل ہے اور اسلام اسی کی حمایت کرتا ہے۔
یہ تیسرا حل دراصل حقیقت پسندی کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں پریکٹیکل اپروچ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ مذاہب میں فکری فرق کو مانتے ہوئے عملی برتاؤ میں باہمی احترام کیا جائے۔ اعتقادی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یہ تقریباً وہی اصول ہے جس کو انگریزی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے : Let's agree to disagree اس اصول کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ۔ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی نہیں، بلکہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی۔ مختلف مذہبوں میں نظریاتی وحدت نہیں، بلکہ مختلف مذہبی گروہوں میں عملی وحدت :
This principle is best described not as religious harmony, but as harmony among religious people. یہ کوئی تخیلاتی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی افادیت تاریخ کے تجربہ سے ثابت ہے۔ اور وہ پوری طرح قابل عمل ہے۔ ماضی میں یا حال میں جب کبھی بھی لوگوں کے درمیان وہ چیز بالفعل قائم ہوئی ہے جس کو " مذہبی ہم آہنگی" کہا جاتا ہے، وہ ہمیشہ اختلاف کے باوجود اتحاد کی بنا پر قائم ہوئی ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر اتحاد کی بنا پر۔
اس کی ایک مثال ہمیں کناڈا میں ملتی ہے۔ کناڈا میں تقریباً ہر مذہب کے لوگ آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں وحدت کلچر (یونی کلچر لزم) کی تحریک چلائی گئی۔ مگر وہ پوری طرح ناکام ہو گئی۔ اس تجربہ کے بعد کناڈا کے ذمہ داروں نے وحدت کلچر کے نظریہ کو چھوڑ دیا۔ چنانچہ اب وہاں تعدد کلچر (ملٹی کلچرلزم) کو رواج دیا جا رہا ہے اور وہ پوری طرح کامیاب ہے۔ حتیٰ کہ کناڈا پوری مغربی دنیا میں مذہب اور کلچر کی ہم آہنگی کا ایک قابلِ حوالہ نمونہ بن گیا ہے۔ یہی معاملہ امریکہ کا بھی ہے۔ امریکہ میں مختلف مذہب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں۔ دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues