Al-Risala · June 1993 · page 18

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸

نئے عہد کے دروازے پر

۱۹۴۷ء میں جب انڈیا کے بٹوارہ کا فیصلہ ہو گیا تو مہاتما گاندھی نے طے کیا کہ وہ پاکستان جائیں گے۔ یہ سفر ایک مشن کے لیے تھا۔ اور یہ مشن ان کے اپنے الفاظ میں ہندو - مسلم دشمنی (Hindu-Muslim antagonism) کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت وہ ۷۷ سال کے ہو چکے تھے۔ انہیں کلکتہ سے نوآکھلی جانا تھا۔ جوان کے لیے بے حد مشکل راستہ تھا۔ مگر وہ مشکلات سے بے پروا ہو کر نوآکھلی گئے۔ وہاں انہوں نے اپنی یادداشت میں ۵ دسمبر ۱۹۴۶ء کو یہ الفاظ تحریر کیے : My present mission is the most difficult and complicated one of my life... I am prepared for any eventuality. ‘Do or Die’ has to be put to the test here. ‘Do’ here means Hindus and Mussulmans should learn to live together in peace and amity. Otherwise, I should die in the attempt. (Louis Fischer, The Life of Mahatama Gandhi, p.449)

میرا موجودہ مشن بے حد مشکل مشن ہے۔ وہ میری زندگی کا سب سے زیادہ پیچیدہ مشن ہے۔ میں کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ میرے لیے ’کرو یا مرو‘ کا امتحان ہے۔ کرنے کا مطلب اس وقت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان کو یہ سیکھنا ہوگا کہ وہ امن اور دوستی کے ساتھ باہم مل کر رہیں۔ ورنہ میں اس کی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا (صفحہ ۴۴۹) مہاتما گاندھی نے اس معاملے کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد یہی واحد چیز تھی جس پر ملک کے مستقبل کا انحصار تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں کو یا تو باہم مل کر ترقی کرنا تھا یا دونوں کو برباد ہو جانا تھا۔ بعد کو پیش آنے والے حالات نے مہاتما گاندھی کے اس نظریہ کی مکمل تصدیق کر دی ہے۔

انڈیا میں ہندو - مسلم مسئلہ اتنا زیادہ پیچیدہ کیوں بن گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا کی آبادی میں ہندو ۸۰ فی صد ہیں اور مسلمان ۱۵ فی صد۔ بقیہ فرقے صرف ایک دو فی صد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں نیکسٹ ٹو مجاریٹی (بعد از اکثریت) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور یہ عام سماجی اصول ہے کہ جہاں ایک گروہ مجاریٹی میں ہو اور دوسرا گروہ نیکسٹ ٹو مجاریٹی کا درجہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page