Al-Risala · January 1993 · page 29

مذہبی ہم آہنگی اور اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹

عالمی جنگ کے بعد امریکہ میں یہ نظریہ اختیار کیا گیا کہ تمام لوگوں کو ایک ہی ’’امریکن کلچر‘‘ پر ڈھال دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کے تحت ایک زبردست مہم چلائی گئی جس کو امریکی بنانا (Americanisation) کہا گیا۔ مگر یہ کوشش مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔

اب امریکہ نے امریکنائزیشن کا تصور چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بجائے وہ ہر کلچر کو آزادی دینے کا حامی ہے۔ پہلے اگر وہاں یونی کلچرلم کا نظریہ تھا تو اب وہاں ملٹی کلچرلم کا نظریہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ امریکہ کے ۴۲ ویں صدر بل کلنٹن (Bill Clinton) جو نومبر ۱۹۹۲ء میں امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں، انھوں نے کامیابی کے بعد اپنی پہلی ہی تقریر میں، جو باتیں کہیں ان میں سے ایک وہ تھی جس کو ٹائمس آف انڈیا (۵ نومبر ۱۹۹۲ء) کے کرسپانڈنٹ مقیم واشنگٹن نے ان الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ منتخب امریکی صدر نے نئی حب الوطنی کی اپیل کی جو امریکی عوام کو باہم جوڑ دے تاکہ ہمارا فرق و اختلاف ہمارے لیے طاقت کا ذریعہ بن جائے :

The president-elect invoked a new patriotism to bring the American people together so that our diversity can be a source of strength. یہاں پہنچ کر ہمیں اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کے اصول کو مستقل طور پر کس طرح برقرار رکھا جائے ۔ اس کی سادہ فطری تدبیر یہ ہے کہ مشترک مفاد کی خاطر ہر گروہ اس اصول کو مان لے کہ : پرامن دائرہ میں ہر ایک کو آزادی، مگر جارحیت کے دائرہ میں کسی کو آزادی نہیں۔ ہر ایک اپنے عقیدہ کے مطابق ، قول و عمل کے لیے آزاد ہو۔ مگر ہر ایک کی آزادی وہاں ختم ہو جائے جہاں اس کی آزادی دوسرے کو عملی نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہو۔ اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر یہی ہے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے جو کھونٹے کے ساتھ رسی میں بندھا ہوا ہو۔ وہ گھومتا ہے اور پھر اپنے کھونٹے کی طرف واپس آجاتا ہے (مثل المؤمن ومثل الايمان كمثل الفرس في آخيته يجول ثم يرجع إلى آخيته ) مشكاة المصابيح ۱۲۲۶/۲ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص کو دائرہ امن

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page