دو مثالیں
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
جرمنی اور جاپان کے مدیروں نے محسوس کیا کہ اب ان کے لیے دو میں سے یک انتخاب ہے۔ یا تو وہ امریکہ اور اس کے حلیفوں سے جنگ جاری رکھیں اور اس کے نتیجہ میں بدستور تباہ ہوتے رہیں۔ یکیک طرز طور پر وہ فریق ثانی کی شرطوں کو مان لیں۔ انھوں نے پہلے انتخاب کو چھوڑ کر دوسرے انتخاب کو لے لیا۔
یہ بظاہر ایک طرفہ ایڈجسٹمنٹ تھا۔ مگر اس کا نتیجہ اتنا بڑا نکلا کہ چالیس سال کے اندر تار بدل گئی۔ جرمنی ہمیشہ سے زیادہ طاقت ور ہو کر دوبارہ متحد ہو گیا۔ اسی طرح جاپان بھی پہلے زیادہ ترقی یافتہ ہو کر اس حالت میں آگیا کہ وہ خود امریکہ کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دے۔ ایک طرفہ ایڈجسٹمنٹ کوئی ہار کا معاملہ نہیں۔ قرآن (الفتح 1) کے مطابق، وہ عین جیت معاملہ ہے۔ ایک طرفہ ایڈجسٹمنٹ اپنے پہلے روز ہی فریق ثانی کے اوپر اخلاقی فتح ہے۔ اور اگر مزید دانش مندی کا ثبوت دیا جائے تو بعد کے مرحلہ میں مادی فتح بھی۔ یہاں ایک اضافہ بہت سبق آموز اور بہت با معنی ہے۔ آر ایس ایس کے ہفتہ وار انگریزی میگزین آرگنائزر (دہلی) نے اپنے شمارہ ۲۵ اپریل ۱۹۹۳ میں ایک مفصل مضمون شائع کیا ہے: راقم الحروف کی تجویز ہندو۔ مسلم ڈائیلاگ کے بارہ میں ہے۔ تجویز کے تعارف اور تبصرہ کے بعد آخر میں اس نے کسی قدر طنزیہ انداز میں لکھا ہے :
Thus a Muslim leader, however well-meaning and well-intentioned in quest of peace, must search for a precedent in Hadis for talks with the non- Muslims. But then everybody knows the fate of Hudaibia agreements which proved only a convenient truce to bale them out of a difficult situation, for a total conquest of Mecca ultimately (p.14). انڈیا آج ایک نئے عہد کے دروازہ پر کھڑا ہے۔ آج اہل ملک کو، خاص طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو، ایک نیا تاریخی فیصلہ کرنا ہے۔ اگر دونوں یہ تاریخی فیصلہ لینے میں کامیاب رہے تو دیش کامیاب ہوگا۔ اور اگر دونوں یہ تاریخی فیصلہ لینے میں ناکام ہو گئے تو اس کے بعد دیش کے لیے تباہی اور بربادی کے سوا کوئی اور مستقبل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues