Al-Risala · June 1993 · page 25

قیادت کا خلا

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵

قیادت کا خلا

قومی پریس میں آج کل مسلسل ایسے مضامین اور ایسی رپورٹیں چھپ رہی ہیں جن میں ملک کے مستقبل کے بارہ میں سخت تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۱۲ اپریل ۱۹۹۳) میں مسٹر ایس ایس گل کا ایک آرٹیکل چھپا ہے ، اس کا عنوان بمبئی کے بعد (Beyond Bombay) ہے۔ مضمون نگار نے ملک کی موجودہ ابتری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

In modern times India has never before faced such a threat to its integrity and its very existence as a nation state. And we have never been so ill- equipped to face this challenge. The maladies are known, the remedies are known, but the physician is missing. عہد حاضر میں انڈیا کو اپنے استحکام اور قومی ریاست کی حیثیت سے اپنے وجود کے لیے کبھی ایسا خطرہ پیش نہیں آیا تھا۔ اور ہم اس چیلنج کا سامنے کرنے کے لیے کبھی اتنے بے مایہ نہ تھے مصیبتیں معلوم ہیں ، ان کا علاج بھی معلوم ہے ، مگر ڈاکٹر موجود نہیں (صفحہ ۱۳) یہ قیادت کے خلا کا مسئلہ ہے، مسلمان اس خلا کو پر کر سکتے ہیں۔ مگر اس طرح نہیں کہ وہ کسی شاعرانہ کلام کے حوالے سے اپنے کو محتسب کائنات ثابت کریں۔ یا یہ اعلان کریں کہ ہم خیر الامم ہیں، اس لیے ہمیں ساری دنیا پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیادت صبر کی قیمت پر ملتی ہے (و جعلنا منهم ائمہ یہدون بامرنا لما صبروا) اس وقت جو صبر درکار وہ یہ کہ مسلمان ماضی کی تلخیوں کو بھلائیں۔ برادرانِ وطن کی زیادتیوں پر مشتعل ہونا ترک کریں۔ وہ مانگنے کے بجائے دینے والے بنیں۔ وہ ملی وقار کو آشو بنانے کے بجائے انسانی خدمت کو آشوبنائیں۔ وہ تمام نزاعات کو یک طرفہ بنیاد پر ختم کرنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ وہ دوسری قوموں کے حریف بننے کے بجائے ان کے خیر خواہ بن جائیں۔ وہ اپنی تصویر یہ بنائیں کہ وہ حقوق کے لیے اٹھنے والے لوگ نہیں بلکہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے لوگ ہیں۔

یہی صبر قیادت کی لازمی شرط ہے۔ مسلمان اگر اس شرط کو پورا کر دیں تو قیادت ان کی طرف اس طرح دوڑ کر آئے گی جس طرح ڈھلوان کی طرف سیلاب کا پانی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page