حج اسپرٹ
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۶
حج اسپرٹ
۱۹۸۲ میں میں نے حج کا فریضہ ادا کیا تھا۔ جن دنوں میں مکہ میں تھا، میری ملاقات کچھ عرب نوجوانوں سے ہوئی۔ ان نوجوانوں کا تعلق ایک خاص جماعت سے تھا جو کہ اسلامی انقلاب کی حامی ہے۔ اور مختلف مسلم ملکوں میں پرتشدد تحریک چلا رہی ہے۔ یہ نوجوان تعملیم یافتہ حاجیوں کے درمیان خفیہ طور پر کچھ عربی لٹریچر تقسیم کر رہے تھے۔ مجھے بھی انھوں نے اپنا ایک سیٹ دیا میں نے اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس میں مسلح اسلامی انقلاب کی تبلیغ کی گئی تھی۔ اس قسم کے پروپیگنڈے کا سلسلہ آج بھی مزید اضافہ کے ساتھ جاری ہے۔ غور کیجیے کہ ایسا کیوں ہے۔ حرم کا علاقہ وہ علاقہ ہے جہاں انسان کی جان لینا تو درکنار ، جانوروں تک کو مارنا جائز نہیں۔ پھر ایسے محترم مقام پر کیوں ایسا لٹریچر پھیلایا جاتا ہے جو تشدد کے فلسفہ پر مبنی ہو، جس میں کچھ لوگوں کو دشمن اسلام کا لقب دے کر انھیں مارنے اور ہلاک کرنے پر ابھارا گیا ہو۔ قرآن میں مکہ کو بلد آمن (ابراهیم ۳۵) کہا گیا ہے ، یعنی امن کا شہر۔ مکہ کی مقدس مسجد کو حرم آمن (العنکبوت ، ۶۷) اور بیت امن (البقره ۱۲۵) بتایا گیا ہے ، یعنی امن کا گھر ، امن و سلامتی کا مرکز۔ یہ امن و سلامتی حرم کی نہایت ابھری ہوئی حیثیت ہے۔ اس لیے حاجیوں کے اوپر سب سے زیادہ نمایاں اثر بھی اسی کا ہونا چاہیے ۔ مگر علی صورت حال اس کے برعکس ہے۔ آج حاجیوں کی تعداد ہمیشہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ساری دنیا سے ہر سال تقریباً ملین تین مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے کہ پہنچتے ہیں۔ مگر عین اس وقت سارے مسلم علاقوں میں پر تشدد تحریکیں جاری ہیں۔ حج کے اضافے نے تشدد کے واقعات کو کم نہیں کیا۔ حاجیوں نے ابھی تک اپنے حج سے امن و سلامتی کا سبق نہیں لیا۔ حاجیوں کا قافلہ ہر سال اس لیے حرم مکہ جاتا ہے کہ وہ وہاں سے واپس آکر اس کی تو سیع بنے ، وہ ساری دنیا میں حرم کی خصوصیات امن کو پھیلا دے۔ مگر فیوض حرم کی یہ توسیع ابھی تک ممکن نہ ہوسکی۔
اس کا سبب شاید یہ ہے کہ لوگ حج کی حقیقت کو بھول گئے ہیں۔ آج کے لوگ حج کی صورت سے واقف ہیں۔ مگر وہ حج کی اسپرٹ سے واقف نہیں۔ حج کے مقام کو جب قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues