حج اسپرٹ
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷
میں امن و سلامتی کا مقام کہا گیا ہے تو اسی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حج کی اسپرٹ کیا ہے۔ حج کی اسپرٹ وہ اعلیٰ روحانيت ہے جو تمام بنی آدم کو ایک ہی انسانی روپ میں دیکھنے لگے۔ حج کی اسپرٹ امن ہے ، جنگ نہیں۔ حج کی اسپرٹ محبت ہے، نفرت نہیں۔ حج کی اسپرٹ نرمی ہے ، تشدد نہیں حج کی اسپرٹ رحمت ہے، زحمت نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ حج کی یہی خصوصیت آج مسلمانوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ حج کی یہ خصوصیت کہیں بھی موجودہ مسلمانوں کی قومی پالیسی کا جزو نہ بن سکی۔
لوگ حج کی ظاہری شکل کو ہی بڑا کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حج کر لیا۔ حالانکہ حقیقی حج اس شخص کا ہے جو حج کو اس کی مثبت روح کے ساتھ ادا کرے۔ آج مکہ میں ہمیشہ سے زیادہ حاجیوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمان ساری دنیا میں اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اگر مسلمان سچی اسپرٹ کے ساتھ حج کر کے لوٹیں تو اچانک ساری دنیا میں امن کی فضا قائم ہو جائے۔ اس کے بعد مسلمان نہ صرف خود تشدد کرنا یا تشدد کی بات بولنا چھوڑ دیں، بلکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے امن اور سلامتی کے مبلغ بن جائیں۔ آج ضرورت ہے کہ بیت حرم میں جانا مسلمان کے لیے بیت امن میں جانا جائے۔ وہاں جمع ہو کر تمام مسلمان تو بہ واستغفار کریں۔ وہ ہر قسم کے تشدد کو چھوڑنے کا عہد کریں، خواہ وہ تشدد اسلام کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر۔ حج کی عبادت سے وہ یہ عزم لے کر لوٹیں کہ وہ تشدد کے ہر طریقہ کو یک طرفہ فیصلہ کے تحت ختم کر دیں گے۔ وہ ساری دنیا کے لیے امت رحمت بن جائیں گے جس طرح ان کا نبی ساری دنیا کے لیے نبی رحمت بنا ہوا تھا۔
آج کی دنیا جنگ اور تشدد سے آخری حد تک اکتا چکی ہے۔ آج کی دنیا کو مصلحانہ جنگ“ سے بھی اتنی ہی نفرت ہے جتنی مفسدانہ جنگ سے۔ آج دنیا کو ایسے مذہب کی تلاش ہے جو اس کو تشدد کی آگ سے نکالے اور اس کو امن کی ٹھنڈک عطا کرے۔ حج ایسے ہی داعیان امن کی تربیت ہے۔ حقیقی حاجی وہ ہے جو امن کی تربیت سے فیض یاب ہو کر وہاں سے لوٹے جس کے لیے حج تربیت گا ہ امن میں جانے کے ہم معنی بن جائے ۔ یہی لوگ دوبارہ انسانیت کے اوپر رحمت خداوندی کا دروازہ کھولیں گے ، وہ دروازہ جو صدیوں سے ان کے اوپر بند پڑا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues