Al-Risala · January 1993 · page 20

مذہبی ہم آہنگی اور اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰

کی رسی سے بندھا رہتا ہے۔ جب بھی کسی کی سرگرمی جارحیت فیر تک پہنچ جائے تو گویا اس کی رسی کی حد آگئی۔ اس کے بعد آدمی پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ دوبارہ امن کے دائرہ کی طرف واپس آجائے۔ یہ فطرت کا قانون ہے جس پر پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار متحرک ستارے ہیں مگر وہ دوسرے ستاروں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنے اپنے مدار پر گردش کرتے رہتے ہیں۔ جنگل کے جانور ہر وقت سرگرم رہتے ہیں مگر حقیقی فطری ضرورت کے سوا کبھی کوئی جانور دوسرے جانور سے نہیں ٹکراتا۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو اپنے قول وفعل کی آزادی ہے۔ مگر اس آزادی کا استعمال صرف امن کے دائرہ میں کرنا ہے ، جارحیت کے دائرہ میں داخل ہونے سے مکمل طور پر ہر ایک کو باز رہنا ہے۔ جارحیت سے پر ہیز کے اس اصول کو ایک لفظ میں اصول اعراض (principle of avoidance) کہا جا سکتا ہے۔

اس سلسلہ میں قرآن میں ایک اصولی حکم یہ ملتا ہے کہ مذہب کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں (لا اکراہ فی الدین) دوسری جگہ اعلان کیا گیا ہے کہ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین (لكم دينكم ولى دين) اسی حکم کی بنا پر ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں آپ نے ایک صحیفہ (ڈیکلریشن) جاری کیا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی تحریر تھا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین ہوگا اور یہود کے لیے یہود کا دین (للمسلمين دينهم ولليهود دينهم) باہی ہم آہنگی کی اس فضا کو باقی رکھنے کے لیے قرآن میں اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ :

ولا تسبوا الذين يدعون من اللہ کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں ان کو گالی دون اللہ فيسبوا الله عدوا بغير علم نہ دو ورنہ وہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی كذلك زينا لكل امة عملهم ثم الى بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے ۔ ربهم مرجعهم فينبئهم بما كانوا يعملون (الانعام (۱۰۹)

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس کارروائی سے بچو جو ایک مذہبی گروہ اور دوسرے مذہبی گروہ کے درمیان تلخی پیدا کرنے والی ہو۔ اختلاف کے باوجود اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page