Al-Risala · June 1993 · page 1

غلطی کی تصحیح

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱

نہ رہا۔

تھوڑی دیر کے لئے احساس ہوا کہ ایک ٹکٹ بلا وجہ ضائع ہو گیا ۔ ممگر جلد ہی میرے اندر ایک نیا احساس جاگ اٹھا ۔ میری زبان سے نکلا " خدایا ، میں اس ٹکٹ کو دنیا کے سفر کے لئے استعمال نہ کر سکا۔ تو اپنی رحمت سے اس کو میرے لئے آخرت کا ٹکٹ بنا دے : اس کے بعد نقصان کا احساس جاتا رہا اور دل میں ایک قسم کا سکون پیدا ہو گیا۔

جہاز دہلی سے روانہ ہو کر منزل کی طرف پرواز کرنے لگا۔ وہ رکے بغیر مسلسل اڑ رہا تھا۔ گھڑی کی سوئی بھی برابر آگے بڑھ رہی تھی ۔ یہاں تک کہ روانگی کے ٹھیک ایک گھنٹہ اور ۵۰ منٹ پر اناؤنسر نے اعلان کیا کہ اب ہم پونہ کے ہوائی اڈہ پر اترنے والے ہیں۔

میں نے یہ الفاظ سنے تو مجھے محسوس ہوا جیسے اناؤنسر یہ کہہ رہا ہو کہ جہاز کے پرواز کی آخری حد آگئی ۔ پھر میں نے سوچا کہ مختلف جہازوں کی مختلف حد ہوتی ہے۔ کوئی جہاز آدھ گھنٹہ اڑ کر اتر جاتا ہے کوئی ایک گھنٹہ اور کوئی دو گھنٹہ اور کوئی دس گھنٹے اڑنے کے بعد نیچے اترتا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ ایک شخص پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے۔ گویا اس کے جینے کی حد چند منٹ یا چند گھنٹے تھی۔ اسی طرح کوئی شخص چند سال گزار کر مرتا ہے۔ کوئی جوانی میں مر جاتا ہے۔ اور کوئی بوڑھا ہو کر مرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عمر موت کی عمر ہے۔ آدمی کا ہر لمحہ اس کا آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت آدمی اپنی آخری حد پر کھڑا ہوا ہے۔ زندگی کا یہ معاملہ اتنا عجیب ہے کہ آدمی اگر اس کو سوچے تو پر عیش محل میں بھی اس کی زندگی بے عیش ہو کر رہ جائے۔

تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہمارا جہاز پونہ ایر پورٹ پر اترا۔ کانفرنس کے نمائندے جو میری رہنمائی کے لئے آئے تھے وہ تو حسب قاعدہ ایر پورٹ کے باہر کھڑے ہوئے تھے۔ گر حلقہ ارسال کے لوگ ایر پورٹ کے اندر مجھ سے ملنے کے لئے موجود تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ اندر کیسے آگئے کیونکہ اندر آنا تو منع ہے۔ جناب عبد الصمد صاحب نے بتایا کہ گیٹ پر کھڑے ہوئے ایر پورٹ کے آدمی نے ان کو روکا۔ پھر انھوں نے کہا کہ ہمارے " "دھرم گرو" آ رہے ہیں۔ یہ سن کر آدمی نے ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ مذہب میں آج بھی وہ طاقت ہے جو کسی دوسری چیز میں نہیں۔ بشر طیکہ مذہب کو ماننے والے اپنے آپ کو اشتعال انگیز کارروائی سے دور رکھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page