الم رساله جون ۱۹۹۳
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۴۸
اور وہاں اظہار خیال کیا۔ اس کا موضوع بحث تھا : ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد کیا ملک میں سیکولرزم کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے۔
نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ۵ مارچ ۱۹۹۳ کی شام کو ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا موضوع ملک کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالنا تھا۔ دہلی کے تعلیم یافتہ ہند و بڑی تعداد میں شریک تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور تقریباً آدھ گھنٹہ کی تقریر میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔
پارلیمنٹ ہاوس کے کمیٹی روم میں ۶ مارچ ۱۹۹۳ کو ایک ڈائیلاگ ہوا۔ اس کا اہتمام مسٹر جسونت سنگھ نے کیا تھا۔ اس کا موضوع تھا ' Our Republic - Post 6 December 1992' صدر اسلامی مرکز اس کی دعوت پر اس میں شریک ہوئے اور وہاں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ انگلش ہفت روزہ انڈیا ٹوڈے کی ٹیم ۶ مارچ ۱۹۹۳ کو اسلامی مرکز میں آئی۔ اس نے تفصیل کے ساتھ صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر ۶ دسمبر کے بعد کے حالات پر تھا۔
امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے نمائندہ نے ۱۰ مارچ ۱۹۹۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس کا خاص سوال یہ تھا کہ کیا ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد انڈیا کے مسلمانوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ جواب دیا گیا کہ ہاں۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ پہلے مسلمان زیادہ تر جذباتی رد عمل کے تحت سوچتے تھے۔ اب وہ اس کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں سوچتے ہیں۔
سرویسو سنگھ (سیواگرام) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ناگپور اور سیوا گرام کا سفر کیا۔ ۱۶ - ۱۷ مارچ ۱۹۹۳ کو سیواگرام میں سرویسو سنگھ کے دو روزہ سیمنار میں شرکت کی۔ ۱۸ مارچ کو ناگپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ تفصیلی رپورٹ انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۹ مارچ ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : رمضان اور جمعۃ الوداع ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues