مذہبی ہم آہنگی اور اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲
اسلام اگر چہ اس کا قائل ہے مکہ سچائی صرف ایک ہے، سچائی کئی نہیں۔ مگر اس کے ساتھ وہ عملی رواداری کا بھی اسی شدہدت کے ساتھ حکم دیتا ہے۔ اس کی آخری حد، مذکورہ سنت کے مطابق، یہ ہے کہ اسلام میں اس کی بھی اجازت ہے کہ غیر مسلم حضرات اسلامی عبادت خانہ (مسجد) میں آئیں۔ وہاں مختلف مذاہب کے درمیان مذاکرہ منعقد کیا جائے۔ حتی کہ اس دوران میں اگر ان کی عبادت کا وقت آ جائے تو وہ مسجد کے اندر اپنے طریقہ کے مطابق عبادت کرنے کے لیے بھی آزاد ہیں۔ یہ اصول خود پیغمبر کی سنت سے ثابت ہے۔ تاہم اب اس میں کہ اور مدینہ کی مسجدیں شامل نہیں ہوں گی۔ کیوں کہ پیغمبر نے بعد کو خدا کے حکم سے مکہ اور مدینہ کو حرم قرار دے دیا۔ غیر مسلم حضرات دوسری تمام مسجدوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ البتہ حرمین (مکہ، مدینہ) میں ان کو داخل ہونے کی رخصت نہ ہوگی۔ یہ گویا کلیہ میں استثناء کا معاملہ ہے۔ اور کلیہ میں استثناء ہونا ایک معلوم و معروف اصول ہے۔
عملی رواداری کا یہ اصول اسلام کی پوری تاریخ میں مسلسل طور پر رائج اور قائم رہا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں اسلام نے اپنے دور اول میں حیرت ناک کامیابی حاصل کی اور اسپین سے لے کر انڈیا تک دنیا کا بڑا حصہ (astonishing success) اسلام کے تحت آگیا :
Within a century after the Prophet's death in AD 632, (the early generations of Muslims) had brought a large part of the globe - from Spain across Central Asia to India - under a new Arab Muslim empire. (9/912)
تاہم ان عظیم فتوحات کے باوجود، برٹانیکا کے مطابق، مسلم دنیا میں دوسرے مذہب کے لوگوں کو پوری طرح مذہبی آزادی (religious autonomy) حاصل تھی۔ اسلام نے توحیدِ حقیقت کو اعلان کرتے ہوئے دوسرے تمام مذاہب کا پورا احترام ملحوظ رکھا اور ان کے ساتھ کامل رواداری کا معاملہ کیا (۹۱۲/۹)
عملی نقطہ نظر سے ایک بے حد اہم بات یہ ہے کہ آج ہم جن مذاہب کے درمیان ہم آہنگ لانا چاہتے ہیں، وہ مذاہب نئے نہیں ہیں، بلکہ ہر مذہب قدیم مذہب ہے اور ہر مذہب قائم ش
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues