مذمما عصینا وأمرہ أبينا
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
سفهت الاحلام و شتمت الآلهة)
اس قسم کی کچھ اور باتیں بیان کرنے کے بعد قریش کے نمائندہ نے آپ سے مکیا کہ آپ قم اور تعییب اور تصفیہ کا یہ کام چھوڑ دیں۔ اس کے عوض آپ جو کچھ چاہیں وہ سب ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ بادشاہت چاہتے ہوں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لیے (إن كنت تريد ملكا ملكناك علينا) البدایہ والنہایہ ۵۰/۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ اور بدستور اپنے تبلیغی کام میں لگے رہے۔ جب کہ معلوم ہے کہ بعد کو مدینہ جاکر آپ نے وہاں اسلام کی حکومت قائم کی۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ آپ نے مکہ میں حکومت کی پیش کش کو کیوں قبول نہیں کرلیا۔ ہو اسلامی حکومت آپ نے پندرہ برس بعد مدینہ میں قائم کی، اس اسلامی حکومت کو آپ نے پندرہ برس پہلے ہی کہ میں کیوں نہ قائم کر لیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت اس طرح قائم نہیں ہوتی کہ ایک اسلامی شخصیت کسی کسی طرح حکومت کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ حکومت کے قیام کا نہایت گہرا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے وہ معاشرہ درکار ہے جہاں لوگوں کے اندر اسلام کے حق میں آمادگی پیدا ہو چکی ہو۔ جہاں وہ سیاسی اسباب جمع ہو چکے ہوں جو کسی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
مکہ دور میں مکہ کے اندر اس قسم کے موافق اسباب جمع نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے آپ نے مکہ میں حکومت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو مدینہ میں یہ اسباب جمع ہو گئے، اس لیے وہاں آپ نے باقاعدہ طور پر اسلام کی حکومت قائم کر دی۔
دونوں جگہوں کا فرق اس سے واضح ہے کہ مکہ میں ابو لہب کی بیوی کے لیے ممکن تھا کہ وہ آپ کی مذمت میں اس قسم کے اشعار کہے اور ان کو مکہ کی آبادی میں چل پھر کر گائے کہ محمد قا بل مذمت ہیں۔ ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا :
مذمما عصینا وأمرہ أبينا
دوسری طرف نبوت کے تیرھویں سال جب آپ اپنے رفیق ابو بکر بن ابی قحافہ کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues