Al-Risala · July 1993 · page 40

دور جدید سے بے خبری

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰

دور جدید سے بے خبری

اس سے پہلے میں نے ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون ”دور جدید کو جاننے کی ضرورت“ کے عنوان سے ہفت روزہ الجمعیۃ (۲۴ نومبر، ۱۹۷۶) میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ ”دنیا میں فکر وعمل کا جو انقلاب آیا ہے اس نے اسلام کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مگر یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ اگر چہ امت طویل مدت سے اس سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ مگر آج تک یہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی کہ فی الواقع جدید مسئلہ کیا ندوۃ العلماءءءءء لکھنؤ نے ۱۸۹۴ میں ملک کے بڑے بڑے علما کی ایک کمیٹی مقرر کی جس کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ اصلاح نصاب کے سلسلہ میں اپنی سفارشات پیش کرے۔ اس موقع پر مولانا شاہ محمد حسین صاحب نے جو یاد داشت پیش کی، اس کا ایک پیراگراف مطبوعہ روداد کے مطابق یہ تھا : (موجودہ درس نظامیہ کا ایک نقصان یہ ہے کہ) فلسفہ جدید جو اسلامی اصول پر آج کل حملہ آور ہے ، اس کے روک کی کوئی تدبیر نہیں بنائی جاتی۔ لہذا میرے نزدیک مناسب ہے کہ کوئی کتاب فلسفہ جدید میں تالیف کی جائے اور اس کی ترکیب آسان یہ ہے کہ ایسے خالص مسلمانوں سے درخواست کی جائے جنھوں نے انگریزی فلسفہ اور انگریزی ہی تعلیم اچھی پائی ہو۔ وہ مسائل فلسفہ مخالف اسلام چھانٹ کر اردو میں ترجمہ کر کے حوالہ ندوۃ العلما کریں۔ ندوۃ العلما اس کا جواب لکھ کر داخل درس کرنے کے ایام تعطیل واوقات فرصت میں طلبہ اس کو بخوبی دیکھیں“ اس تجویز پر تقریبا سو سال گزر چکے ہیں۔ مگر اب تک یہ تجویز واقعہ نہ بن سکی۔ ندوۃ العلما نے اپنے دعوے کے مطابق ، اس مدت میں بڑی بڑی ترقیاں کی ہیں۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ ندوۃ العلماء کانصاب آج بھی ایسی کسی کتاب سے خالی ہے۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے تقسیم ہند سے دس سال پہلے ایک کتاب لکھی جو ”تجدید واحیاء دین“ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں وہ شاہ ولی اللہ سے لے کر شاہ اسماعیل تک کی اسلامی تحریکوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

”سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید جو عملاً اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے اٹھے تھے، انھوں نے سارے انتظامات کیے مگر اتنا کیا کہ اہل نظر علما، کا ایک وفد یورپ بھیجے اور یہ تحقیق

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page