حجۃ اللہ البالغہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۶
کیاے ذریعہ مسلموجودہ مسیحیت کی تردید کی اور اس کے بیانات کی بنیاد پر مسلم موقف کو صحیح ثابت ک ہے۔ مگر علمی اعتبار سے یہ استدلاللہلہ درست نہیں۔ کیوں کہ استدلال کی بنیاد صرف وہ چیز بن سکتی ہے ہے جو متکلم اور مخاطب دونوں کے درمیانان مسلم ہو۔ انجیل برنباس کی صحت عیسائیوں کے یہاں م نہیں۔ ایسی حالت میں عیسائیوں کے مقابلہ میں وہ دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔
مسیح کے بعد ابتدائی زمانہ میں انجیل کے بہت سے نسخے الگ الگ پائے جاتے تھے۔ دوسر صدی عیسوی میں مسیحی چرچ نے چار انجیلوں کو معتبر اور مسلم انجیل (Canonical gospels) قرار دیا۔ اور بقیہ تمام اناجیل کو غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) بتا کر رد کر دیا۔ انجیل برنباس انہیں رد کی ہوئی انجیلوں میں سے ایک ہے۔ اس بنا پر ہمارے اور مسیحی حضرات کے درمی انجیل برنبا سباس کی حیثیت ایک مسلم بنیاد کی نہیں رہی، ایسی حالت میں کسی مسلم عالم کے لیے انجیل برنا کی بنیاد پر مسیحیت کے مقابلہ میں کوئی دلیل قائم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسیحی عالم موضوع روایات کی بنیاد پر اسلام کے بارہ میں کوئی بات ثابت کرے۔
اسلام اور اسلامی تاریخ کے بارہ میں موضوع روایتیں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں مسلم علماء ان روایتوں کی صحت کو نہیں مانتے، اس لیے وہ اسلام کے معاملہ میں کسی بات کو ثابت کرنے کی معقول بنیاد نہیں بن سکتیں۔ یہی معاملہ برنباس کا بھی ہے۔
۵۔ مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۹۴۹۔ ۱۸۸۸) ۱۸۸۸) کا شمار ممتاز علماء دیوبند میں ہوتا ہے۔ ان کی تفسیر قرآن بہت مشہور ہے، جو انھوں نے ۱۳۵۰ھ میں لکھ کر مکمل کی تھی۔ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی ال علیہ وسلم کی امتیازی خصوصیت کو ثابت کرتے ہوئے سورہ النجم کی آیت ۲ کے تحت لکھا ہے : ”جس طرح آسمان کے ستارے طلوع سے لے کر غروب تک ایک مقرر رفتار سے متعین راستہ پر چلے جاتے ہیں ، کبھی ادھر اُدھر ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ (اسی طرح) آفتاب نبوت بھی ال کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا ادھر پڑ جائے ۔ انبی علیہم السلام آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی رہنمائی ہوتی ہے اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے، ایسے ہی تما انبیاء کی تشریف آوری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا ۔ (صفحہ ۶۸۲)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues