سوب رس
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵
سوب رس
سو سال کا سفر کبھی اس طرح طے نہیں ہوتا کہ ہم اپنے کاغذی کیلنڈر میں سو سال آگے کا ہندسہ لکھ لیں ۔ جو لوگ حقیقت کے اعتبار سے پیچھے ہوں وہ بڑے بڑے لفظ بول کر آگے نہیں ہو سکتے۔ آگے ہونے کے لئے حقائق کو اپنے مطابق کرنا پڑے گا۔
زمین سورج کے گرد اپنے لمبے مدار پر ایک سو بار گھومتی ہے تب اس کی سو سالہ تاریخ پوری ہوتی ہے۔ یہی انسان کا معاملہ بھی ہے۔ انسان کو بھی اگر کسی دور کی منزل تک پہنچنا ہے تو اس کو لمبی مدت تک اس کی طرف سفر کرنا ہوگا ، اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ ایک شخص سماج کے اندر اونچا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو پہلے ضروری جد و جہد کر کے اس کے تمام اسباب جمع کرنے ہوں گے ، اس کے بعد ہی اس کو واقعی معنوں میں اونچا درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک قوم کو ترقی یافتہ قوم بنانا ہے تو پہلے اس کو تیاری کے مرحلہ سے گزرنا ہو گا۔ ضروری تیاری کے مرحلوں کو پورا کئے بغیر وہ ایک ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکتی۔
ترقی اور کامیابی ہمیشہ کسی تیاری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پہلے تیاری کی جاتی ہے، اس کے بعد اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ تیاری کے بغیر اس کا نتیجہ پالیں تو موجودہ دنیا میں یہ بالکل نا ممکن ہے۔ آپ نتیجہ سے اپنی زندگی کا سفر شروع نہیں کر سکتے۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہو گا تو وہ تیاری سے شروع ہوگا ، ورنہ کبھی شروع ہی نہ ہوگا۔
لوگ کسی کی ترقی کو دیکھ کر حسد کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تیاری کو حذف کر کے نتیجہ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس طرح جب انہیں نتیجہ نہیں ملتا تو وہ دوسرے شخص سے جلن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ دوسرے شخص کی طرح ضروری تیاری کرتے تو یقیناً وہ بھی اسی نتیجہ کو پالیتے جس کو دوسرے شخص نے پایا ہے۔
اگر آپ سو سال کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں تب بھی آپ کو ایک ایک دن کی رفت ار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ کاغذ کے اوپر آپ کوئی بھی اپنا دل پسند لفظ لکھ سکتے ہیں۔ مگر حقیقت کی دنیا کو اپنی پسند کے مطابق بنانے کے لئے حقیقی جد و جہد کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues