Al-Risala · August 1993 · page 22

نیا دور

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

کا موقع ملا۔ مسلمانوں ہند کے تحفظ کے سلسلہ میں ان لوگوں کی خدمات بلاشبہ قابل قدر بیس، مگر ان حضرات نے بھی نئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو کوئی واضح اور مثبت رہنمائی نہ دی ۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔

مثال کے طور پر، ۱۹۱۹۱۹۱۹۱۹۴۷ء سے پہلے مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، سب کے سب یہ کہتے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ اس لیے اس ملک کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ، ۴۷ کے بعد اس معاملہ میں یہ سب حضرات بالکل خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ مسلمانوں میں علیحدگی پسندی کا ذہن ختم کریں اور ان کے اندر ہندوستانی قومیت کا ذہن بنائیں ۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے سب سے زیادہ ضروری کام یہی تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ہندوستانی مسلمانوں کو سوچ کا ایک رخ مل جاتا، اور ان کے لیے ممکن ہو جاتا کہ وہ حالات سے موافقت کرکے اس ملک میں اپنی زندگی کی تعمیر کر سکیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے ہم خیال دوسرے رہنماؤں کی اس غیر فعالیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۴۷ کے بعد کے انڈیا میں بھی مسلمانوں کے اندر وہی سوچ جاری رہی جو۱۹۴۷سے پہلے کے انڈیا میں انھیں مسٹر جناح نے دی تھی۔ ۴۷ کے بعد اٹھنے والے لیڈروں میں بھی کوئی اس صلاحیت کا نہ تھا کہ وہ مسٹر جناح اور ان کے ہم نوا ڈاکٹر اقبال کے فکری غلبہ کو توڑ سکے۔ چنانچہ بعد کا دور عملی طور پر پچھلی قیادت کی توسیع بن گیا جو آج تک جاری ہے۔

مسٹر جناح اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ سکھایا تھا۔ مسلمانوں کا پورا ذہن اس فکر کے تحت بنا تھا کہ ہندو الگ قوم ہیں اور مسلمان الگ قوم۔ اس فکر نے مسلمانوں کو جو طریقہ دیا وہ دوری اور ٹکراؤ کا طریقہ تھا۔ وہ احتجاج اور مطالبات پر مبنی تھا۔ وہ حقوق طلبی کی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا۔ وہ یہ تھا کہ مسائل کو نمایاں کیا جائے اور مواقع کو غیر مذ کور چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ ۴۷ کے بعد کا پورا دور اسی سابقہ فکری راستہ پر چل پڑا۔ مسٹر جناح نے چودہ پوائنٹ پر مشتمل اپنے مطالبات پیش کیے تھے۔ نئی لیڈر شپ نے ہیں پوائنٹ پر مشتمل اپنے مطالبات پیش کر دیے۔ مسٹر جناح نے علیحدہ قومیت کی بات کی تھی، نئی قیادت نے علیحدہ تشخص کی بات شروع کردی، مسٹر جناح نے مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار ہندو کو بتایا تھا۔ نئے لیڈروں نے اکثریتی فرقہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page