اور ہندو بھی
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳
کی حکومت کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار بتانے پر اپنی ساری طاقت خرچ کردی۔ مسٹر جناح نے مسلمانوں میں زرد صحافت کو رواج دیا تھا۔ وہ مزید شدت کے ساتھ بعد کے دور میں بھی جاری رہی۔ مسٹر جناح کی غلط رہ نمائی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے انتہائی غلط طور پر ہندوؤں کو غیر قوم سمجھ لیا تھا، ۱۹۴۷ء کے بعد رہ نمائی کے خلا کی بنا پر مسلمان دوبارہ ہندوؤں کو غیر قوم ہی سمجھتے رہے۔ مسٹر جناح کی غلط رہ نمائی نے مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا تھا کہ مشترک ہندوستان ان کا وطن نہیں بن سکتا، یہی ذہن بعد کو بھی مسلمانوں میں کم وبیش باقی رہا۔ وہ اب بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے رہے کہ ہندوستان ان کا اصلی وطن نہیں ہے۔ اس طرح مسلمان ذہنی طور پر خود اپنے وطن میں بے وطن بن کر رہ گئے ۔
میرے نزدیک، موجودہ مسلم قیادت، بے ریش اور باریش دونوں، تقریبًا بلا استثناء مسٹر جناح کے قیا دتی انداز کی توسیع ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ہر ایک بنیادی طور پر وہی بات کہہ رہا ہے جو مسٹر جناح نے اور ان کے فکری ہم نوا ڈاکٹر اقبال نے کہی تھی۔ دونوں کے درمیان الفاظ کا فرق ہو سکتا ہے، مگر ان میں حقیقت کا کوئی فرق نہیں۔
اور ہندو بھی
گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو ہندو بھی عملاً مسٹر جناح کے راستہ پر چل پڑے ۔ ۱۹۴۷ء کے بعد وہ بھی مسٹر جناح کے فکری پیرو بن گئے ۔ انھوں نے بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر مسٹر جناح کے زیر تاثر یہ سمجھ لیا کہ انڈیا میں دو قومیں بستی ہیں ۔ ایک ہندو، اور دوسرے مسلمان ۔ یہی وہ چیز ہے جو ہندو مسلم تعلقات کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔
انڈیا میں مسلمان ایک ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے آباد ہیں۔ ان کی تعداد پہلے تھوڑی تھی۔ اب بڑھتے بڑھتے تقریبًا پندرہ کروڑ ہو چکی ہے۔ یہ مسلمان کون لوگ ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پہلے ہندو تھے ۔ بعد کو انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ گویا کہ یہ مسلمان بھی نسلی اعتبار سے اسی طرح انڈین ہیں جس طرح دوسرے ہندو انڈین ہیں۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے بجاطور پر لکھا ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران ہندوؤں میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ صرف ہندو لوگ انڈین ہیں، مسلمان انڈین نہیں ہیں۔ ہند وعقیدہ یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues