Old ideas, new techniques.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴
صورت کے اعتبار سے مسجد نہیں معلوم ہوتی۔ اس میں گنبد اور مینار جیسی چیزیں موجود نہیں ہیں۔ بمبئی میں نئے عبادت خانے کی تعمیر کی اجازت مشکل سے ملتی ہے۔ اس بنا پر لوگوں نے ایسا کیا ہے کہ وہ مدرسہ کے نام پر ایک ہال بنا لیتے ہیں اور اس کے اندر تعلیم کے ساتھ نماز بھی ادا کرتے ہیں۔
بمبئی والوں کا یہ طریقہ مجھے پسند آیا۔ آدمی جس ماحول میں ہو، وہاں کا ماحول اگر ایک چیز دینے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کو اشو بنا کر اس کے لئے فکر اناء عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ آدمی کو چاہئے کہ جو کچھ مل رہا ہے اس کو لے لے اور بقیہ کے لئے پرامن طور پر اپنی تعمیری کوشش جاری رکھے۔
بمبئی میں کئی پروگرام ہوئے۔ یہاں کے حلقہ الرسالہ نے تمام پروگراموں کو جس طرح آرگنائز کیا وہ یقیناً قابل تعریف تھا۔ تمام لوگوں نے ایک ٹیم کے انداز میں کام کیا۔ ڈاکٹر عبد الکریم نائک ، ڈاکٹر محمد نائک، ڈاکٹر ذاکر نائک ، مسٹر افضل لادی والا ، ہارون بھائی ہونسری والا ، مسٹر فاروق فیصل ، مسٹر نسیم علی خاں، مولانا متقانی ، مسٹر جی ایم صدیقی، مسٹر آفتاب احمد صدیقی وغیرہ اس میں شریک تھے۔ انہوں نے ہر جزو کو پیشگی طور پر منصوبہ بند انداز میں طے کیا اور اس کو حسن وخوبی کے ساتھ تکمیل تک بہنچایا ، آخر میں ان لوگوں نے تمام پروگرام کا پریس ریلیز انگریزی میں تیار کیا اور اس کو بمبئی کے ۳۴ میگزینین اور اخباروں کے نام روانہ کیا۔ کئی پروگراموں کے ویڈیو کیسٹ تیار کرائے ، جو لوگ ویڈیو کیسٹ پہ قیمت لینا چاہیں وہ ذیل کے پتہ پر خط و کتابت کریں:
Islamic Research Foundation, Masalawala Building, 2nd Floor, 56 Tandel Street North, Dongri, Bombay 400009, India. Tel. 864968 بمبئی کے پروگراموں میں مقامی اخباروں کے نمائندے بھی آتے رہے۔ مسٹر بال ٹھا کرے کے مراٹھی اخبار " سامنا " کا نمائندہ بھی شریک ہوا۔ اس طرح مسٹر بال ٹھا کرے کو میری باتوں کی رپورٹ پہنچتی رہی۔ چنانچہ بال ٹھا کرے نے سامنا کے شمارہ ۱۲ نومبر ۱۹۹۲ میں پورا ایڈیٹوریل اسی کے بارہ میں لکھا۔ جناب فاروق فیصل صاحب نے اس ایڈیٹوریل کا تماشہ اس کے اردو ترجمہ کے ساتھ بھیج دیا ہے۔ اس مفصل ایڈیٹوریل کا ایک حصہ یہ ہے:
" نئی دہلی ، اسلامی مرکز کے فاؤنڈر ، الرسالہ کے ایڈیٹر مولانا وحید الدین خاں، انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues