Al-Risala · August 1993 · page 37

Old ideas, new techniques.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷

کا شمارہ ستمبر ١٩٩١ انھیں پڑھنے کے لئے دیا۔ اس میں ایک حدیث پڑھ کر انھوں نے کہا: You have followed this (Hadith). It should be in practice. It should not be only in books. فاروق فیصل صاحب (پیدائش ١٩٥٥) نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ مگر میرا تجربہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ میری پیدائش سے قبل تقسیم ہند ہوئی۔ حیدر آباد پولیس ایکشن، ملک کے فسادات اور مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ ہم مسلمانوں کی تباہی و بربادی کی تاریخ کا آخری حصہ ہیں۔ چنانچہ ایک طرح کی مایوسی دل و دماغ پر طاری ہوگئی تھی لیکن الرسالہ پڑھ کر احساس ہوا کہ ہم مسلمانوں کی تاریخ کی تباہی و بربادی دیکھنے کے لئے نہیں پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی نئی تاریخ کا باب شروع کرنے کے لئے اس دور میں پیدا کئے گئے ہیں۔ کیا اب بھی لوگ یہ کہیں گے کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ میں تاریخ کا آخری حصہ ہوں لیکن الرسالہ پڑھ کر احساس ہونا شروع ہوا کہ میں تاریخ کا اول حصہ بننے والا ہوں۔ تاریخ میرے عمل سے بنے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ اقدام اور حوصلہ مندی سکھاتا ہے نہ کہ بزدلی اور پسپائی۔ بمبئی سے ایک انگریزی اخبار انڈیپنڈنٹ چھپنا شروع ہوا ہے۔ یہ کافی آزاد اور غیر جانب دار اخبار ہے اور اعلیٰ حلقوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق ٹائمس آف انڈیا گروپ سے ہے۔ اس کے بارہ میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے جناب نسیم علی خاں صاحب نے کہا: انڈیپنڈنٹ مسلمانوں کے مسائل سمیت تمام ضروری باتیں غیر جانب دارانہ انداز میں شائع کرتا ہے۔ اب کسی مسلمان لیڈر کو علیحدہ سے مسلمانوں کا انگریزی اخبار نکالنے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود لکھنا چاہیں تو وہ انڈینٹ کے صفحات کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔

بمبئی میں کئی اخبار کے نمائندوں نے انٹرویو لیا۔ ان میں اردو، مراٹھی، انگریزی اخبارات شامل تھے۔

ڈاکٹر رفیق زکریا بمبئی کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ انھوں نے سلمان رشدی کی کتاب "شیطانی آیات" کے جواب میں ایک کتاب محمد اور قرآن (انگریزی) لکھی۔ اس کتاب کو رشدی کی کتاب ہی کے پبلشر پنگوئن (Penguin Books) نے شائع کیا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page