Al-Risala · August 1993 · page 39

Old ideas, new techniques.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹

گزرا نہے۔ پرجورو روحانی کیفیت ان اجتماعات میں حاصل ہوئی اس کا بیان قلم سے ممکن نہیں۔ یہ مبالغہ نہیں حقیقت بیانی ہے۔

حسب پروگرام ۲ نومبر کی شام کو، انجے سدیشور ایکسپریس کے ذریعہ بمبئی سے سولاپور کے لئے روانگی ہوئی۔ بمبئی میں مسلسل پروگرام کی وجہ سے دماغ بالکل تھک گیا تھا۔ رات کو بہت اچھی نیند آگئی۔ صبح اٹھا تو ابھی دو گھنٹے کا سفر باقی تھا۔ یہ سفر ایک رفیق سفر کی وجہ سے بہت آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ یہ ایک ریلوے افسر تھے جو پونے سے رات کے وقت سوار ہوئے تھے اور وہ بھی سولاپور جا رہے تھے : P.K.A. Narayan, Divisional Personnel Officer, Central Railway, Solapur. موصوف کے ساتھ دو اور ریلوے افسر تھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے وہ بار بار لطیفے بیان کرتے تھے۔ خود بھی ہنستے رہے اور دوسروں کو بھی ہنساتے رہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قسم کے لطیفے صرف لوگوں کو ہنسانے کے لئے بیان کرتے ہیں یا اپنا ٹینشن نکالنے کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا ٹینشن نکالنے کے لئے۔

مزید گفتگو کے دوران انھوں نے کہا، مجھ کو قرآن کی ایک کاپی ہونا میں نے سولاپور کے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ موصوف سے ملیں اور ان کو قرآن کا انگریزی یا ہندی ترجمہ پہنچادیں۔ موصوف نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ آپ کوئی کاغذ لے کر اس کو فولڈ کریں۔ سات موڑ کے بعد اس کو مزید موڑ نا سخت مشکل ہو جائے گا۔ کاغذ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہم نے پہلے ایک چھوٹا کاغذ (لیٹر ہیڈ سے لے کر موڑنا شروع کیا۔ وہ سات موڑ پر پہنچ کر رک گیا۔ پھر انگریزی اخبار کا بڑا کاغذ لیا۔ وہ بھی سات موڑ پر پہنچ کر رک گیا۔ دوسرے ریلوے افسر سرنگ نے کہا کہ ہر چیز کی ایک تکمیل حد (Saturating point) ہے ۔ اس حد تک پہنچنے کے بعد انسان آگے نہیں جا سکتا۔ کاغذ کی فولڈنگ کی ایک حد ہے۔ اسی طرح ہر چیز کی ایک حد ہے۔

سولاپور کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کئی رائیں ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ یہ سولہ پور ہے۔ ابتدا میں ہاں سولہ گاؤں تھے۔ ان سب کو ملا کر شہر بنایا گیا۔ اس طرح اس کا نام سولاپور ہو گیا۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ یہ ابتداً اشعلہ پور تھا۔ اس کے بعد وہ شولاپور بنا، اور پھر سولاپور ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page